۱۔ السلام علیکم! مفتی صاحب! آپ سے پاکی و ناپاکی کے بارے میں ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ مسئلہ کچھ یوں ہے کہ :
’’اگر کوئی عورت صرف اپنے شوہر کی منی پیتی ہے‘‘ تو کیا یہ کام جائز ہےیا ناجائز؟ اور وہ بھی اس صورت میں جب اُس کا شوہر ہی اُس کو اس پر مجبور کرے۔
۲۔ اور کیا ایسا کرنے سے وہ خاتون حالتِ جنابت میں آ جاتی ہے؟ یعنی اُس پر غسل واجب ہو جاتا ہے یا نہیں؟ براہِ کرم میرے سوال کا جواب ضرور دیں ،کیونکہ میں بہت اُلجھن میں ہوں۔
واضح ہو کہ منی نجس اور ناپاک ہے، اور اس کا کھانا یا پینا شوہر کی اجازت و حکم سے ہو یا اس کے بغیر ،بہر صورت ناجائز وحرام اور فطرت سلیمہ کے بھی خلاف ہے، اس لیے اس کے پینے اور شوہر کو بھی بیوی کو اس کے پینے پر مجبور کرنے سے احتراز چاہیئے، تاہم اگر کسی نے غلطی سے پی لی ہو ، تو اس سے غسل لازم نہیں ہوتا، بلکہ توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس قسم کی حرکت سے احتراز لازم ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: كل ما يخرج من بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي والقيح والصديد والقيء إذا ملأ الفم كذا في البحر الرائق اھ(1/ 46) والله أعلم