السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! حضرت !ایک سوال کا جواب طلب ہے۔صورتحال یہ ہے کہ رینجرز کی ایک پوسٹ ہے جس کے باہر ایک مسجد ہے، ابتداء میں یہ مسجد رینجرز کے استعمال میں رہی۔ لیکن 2020 میں ایک حادثے کے بعد اس مسجد کا استعمال ختم کر دیا گیا، اب صورتحال یہ ہے کہ وہ مسجد غیر استعمال ہے اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظر یہ مسجد استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے، موجودہ گرمی کی شدت کے پیش نظر پوسٹ کے اندر عام استعمال کیلئے ایک برآمدہ بنایا گیا ہے جس کا مسجد سے تعلق نہیں ہے۔ محدود وسائل اور سامان کی انتہائی مشکل ترسیل کے مسائل کے پیش نظر اس برآمدہ کا سایہ بنانے کیلئے مذکورہ بالا مسجد کا قالین جو کہ کسی بھی استعمال میں نہیں تھا ، نئے بنائے گئے برآمدے پر ڈال دیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا جائز ہے یا اس میں کوئی حرج ہے، میرے زیر کمان لڑکے کہہ رہے ہیں کہ مسجد کا سامان مسجد کے علاوہ کسی استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔ مجھے اس سلسلے میں رہنمائی کی ضرورت ہے براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ مسجد کے لیے وقف شدہ سامان کا استعمال کسی دوسری جگہ یا کسی دوسرے مقصد کے لیے کرنا (اگرچہ وہ جگہ مسجد کے ساتھ ہی واقع ہو )شرعاً جائز نہیں، لہٰذا صورت مسئولہ میں مسجد کےقالین کو برآمدے میں سایہ کےلیے بچھانا شرعاً جائز نہیں، جس سے احترازلازم ہے۔البتہ اگر واقعی مسجد میں اس قالین کی اب ضرورت باقی نہ رہی ہو، اور آئندہ بھی اس کے استعمال کی کوئی امید نہ ہو، تومتعلقہ مجازاتھارٹی (مسجد کے ذمہ دار)کےلیے قالین کوضائع ہونے سےبچانے کی غرض سےاس کی موجودہ قیمت مسجد فنڈ میں جمع کرنےکے بعداسےکسی دوسرے مصرف میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے ۔
كما في رد المحتار: ويلزم من عدم النقل خراب المسجد الآخر المحتاج إلى النقل إليه(الى قوله)سئل شيخ الإسلام عن أهل قرية رحلوا وتداعى مسجدها إلى الخراب، وبعض المتغلبة يستولون على خشبه، وينقلونه إلى دورهم هل لواحد من أهل المحلة أن يبيع الخشب بأمر القاضي، ويمسك الثمن ليصرفه إلى بعض المساجد أو إلى هذا المسجد؟ قال: نعم اھ( كتاب الوقف، مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره، ج: ٤، ص: ٣٦٠، مط: سعيد)