اسلام آباد میں قائم متعدد کال سینٹرز، امریکہ میں مقیم بزرگ افراد (65 سال یا زائد) کو ایک پالیسی فروخت کرتے ہیں جسے «فائنل ایکسپینس انشورنس» کہتے ہیں۔ خریدار ماہانہ 70 سے 100 ڈالر پریمیم دیتا ہے، اور انتقال پر ورثاء کو 8 سے 10 ہزار ڈالر صرف تدفین و جنازے کے اخراجات کے لیے ملتے ہیں۔یہ ہیلتھ انشورنس سے مختلف ہے، کیونکہ وہاں ادائیگی بیماری یا حادثے پر منحصر ہے جو غیریقینی امر ہے، جبکہ یہاں ادائیگی صرف موت پر منحصر ہے جو ہر انسان کے لیے قطعی اور یقینی حقیقت ہے۔ نیز مغربی معاشرے میں خاندانی نظام نہ ہونے کی وجہ سے تنہا بزرگ اپنے بعد از مرگ اخراجات کا بندوبست خود اسی طریقے سے کرتے ہیں۔
سوال: کیا یہ پالیسی فروخت کرنا اور اس پر کمیشن لینا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟
سائل نے سوال میں فائنل ایکسپینس انشورنس کے طریقہ کار اور شرائط و ضوابط کی مکمل تفصیل ذکر نہیں کی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم سوال میں مذکور پالیسی کی ذکر کردہ تفصیل سے جوبات واضح ہوتی ہے، اس کے مطابق اگر کسی شخص کا پالیسی لینے کے بعد جلد انتقال ہوجائے تو اس کے ورثاء کو جمع شدہ پریمیم سے زیادہ رقم وصول ہوگی جو کہ قرض پر مشروط نفع ہونے کی وجہ سے "سود" ہے ، اور یہ بھی احتمال ہے کہ پالیسی لینے کے بعد کوئی شخص زیادہ عرصے تک زندہ رہے اور انتقال پر اس کے ورثاء کو ملنے والی رقم سے زیادہ کمپنی کو جمع کرانا پڑے، یہ غیر یقینی صورت شرعاً قمار اور غرر کے تحت آتی ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں، لہذا مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اس پالیسی کی خرید و فروخت کرنا یا اس کی خرید و فروخت میں معاون بن كر كميشن لينا ناجائز ہے۔
لما في مسند أحمد (ت شاكر): حدثنا أبو سعيد حدثنا هشيم حدثنا حصين بن عبد الرحمن عن الشعبي عن الحرث عن علي: أنَّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لعن آكل الربا وموكله، وشاهديه وكاتبه، والمحلَّ والمحلَّل له، والواشمة والمستوشمة، ومانع الصدقة، ونهى عن النَّوْح. (رقم الحديث: 1364، ط: دار الحديث)
لما في الموسوعة الفقھية الكويتية:وقال البعض الآخر من الحنفية: البيع فاسد؛ لأن فيه زيادة جهالة تمكنت في صلب العقد وهي جهالة الثمن بسبب الرقم، وصار بمنزلة القمار للخطر الذي فيه أنه سيظهر كذا وكذا لأنه يحتمل أن يبين البائع قدر الرقم بعشرة دراهم أو أكثر أو أقل.(95/23، ط: دار السلاسل)
ولما فی فقه البیوع: أما عملیۃ التأمین، فعملیۃ تشتمل علی الربوا أو علی الغرر أو علیھما، و بھذا أفتی. (1066/2، ط: مکتبة دار العلوم کراتشی)
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0