السلام علیکم! میرا فقہ حنفی کے مطابق ازدواجی تعلقات سے متعلق ایک سوال ہے:
بعض اوقات میرے شوہر جنسی تسکین حاصل کرنے کے لیے مجھ سے کہتے ہیں کہ میں اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے عضوِ تناسل کو تحریک دوں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میں کسی وجہ سے یہ عمل مؤثر انداز میں جاری نہیں رکھ پاتی، تو کچھ دیر بعد وہ میرا ہاتھ ہٹا کر خود اپنے ہاتھ سے عضو کو تحریک دیتے رہتے ہیں یہاں تک کہ انزال ہو جاتا ہے، جبکہ میں ان کے پاس موجود ہوتی ہوں اور اس ازدواجی عمل میں شریک بھی ہوتی ہوں۔کیا حنفی فقہ کے مطابق ایسی صورت جائز ہے؟ نیز کیا اس حکم میں کوئی فرق ہے اگر بیوی موجود ہو اور ابتدا میں اس عمل میں شریک بھی رہی ہو، بہ نسبت اس صورت کے کہ کوئی شخص تنہائی میں خود استمناء کرے؟جزاکم اللہ خیراً!
سائلہ کے ہاتھ کے ذریعہ شوہر کا انزال کروانا تو جائز ہے،البتہ اس دوران سائلہ کے شوہر کا خود اپنے ہاتھ سے اپنے عضو کو تحریک دینا خود لذتی اور مشت زنی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے گناہ ہے ،جس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما في الشامية : ولان غاية مسها لذكره انه استمتاع بكفها وهو جائز قطعا (إلى قوله )كما اذا وضعت فرجها على يده ، فهذا كما ترى تحقيق الكلام "البحر "لا اعتراض عليه فافهم اھ(1 /535)۔
و فی رد المحتار تحت (قوله الاستمناء حرام ) أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة أما إذا غلبته الشهوة وليس له زوجة ولا أمة ففعل ذلك لتسكينها فالرجاء أنه لا وبال عليه كما قاله أبو الليث ويجب لو خاف الزنا اھ (4 /27)