اسلام وعلیکم ۔
جناب عرض یہ کرنا تھا کے ایک دوست پوچھ رہا تھا کے وہ کئی دنوں کے بعد اپنی بیوی کے پاس گیا ہے ہمبستری کیلئے، لیکن آگے سے حیض کے ایام تھے، اب شہوت بھی بہت زیادہ ہے ،تو اب بندہ اپنی بیوی کا ہاتھ استعمال کرسکتا ہے استخراج منی کے لیے یا کوئی اور طریقہ ہو؟
واضح ہو کہ شوہر کے لیے حالتِ حیض میں بیوی کے ناف سے لیکر گھٹنوں تک کے حصہ سے بلا کسی حائل فائدہ اُٹھانا تو جائز نہیں، البتہ اگر درمیان میں کوئی حائل مثلا کپڑا و غیرہ ہو تو کولہو ں کے درمیان انزال کی گنجائش ہوگی ، نیز ایسی حالت میں اگر شوہر کو ضرورت محسوس ہو تو بیوی کے ہاتھ کے ذریعہ شوہر کا انزال کروانا بھی جائز ہے ۔(از تبویب :88525)
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُن(البقرة: 222)۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن معاذ بن جبل قال: قلت: يا رسول الله ما تحل لي من امرأتي وهي حائض؟ قال: «ما فوق الإزار والتعفف عن ذلك أفضل» اھ (باب ما یحل فی الحیض،ج:۱ ص:۱۷۳).
وفی حاشية ابن عابدين: ويمنع الحيض قربان زوجها ما تحت إزارها كما في البحر (قوله يعني ما بين سرة وركبة) فيجوز الاستمتاع بالسرة وما فوقها والركبة وما تحتها ولو بلا حائل اھ (1کتاب الحیض،ج:۱،ص:۲۹۲،ط:)
وفی الفتاوى الهندية: (ومنها) حرمة الجماع. هكذا في النهاية والكفاية وله أن يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند أبي حنيفة وأبي يوسف. هكذا في السراج الوهاج اھ (کتاب الحیض،ج:۱،ص:۳۹،ط:)
في الفتاوى الشامية :ولان غاية مسها لذكره انه استمتاع بكفها وهو جائز قطعا (إلى قوله )كما اذا وضعت فرجها على يده ، فهذا كما ترى تحقيق الكلام "البحر "لا اعتراض عليه فافهم اھ(1 /535)۔