کیا سالگرہ کی مبارک با د دینا بدعت ہے؟ کیا عورت کا ایسی جگہ کام کرنا جہاں مرد بھی ہوں اگرچہ وہ تعلیم کا شعبہ ہو ناجائز ہے؟
مبارک باد دینے کا مطلب خیر وبرکت کی دعادینا ہے، جو عموما کسی خوشی کے موقع پر دی جاتی ہے، لہذا کسی شخص کی سالگرہ کے موقع پر مبارک باد دینے کےلئے اگر مروجہ الفاظ کے بجائے اسے خیر وبرکت کی دعادیدی جائے تو یہ بلاشبہ جائز اور درست ہے، لیکن سالگرہ کی مروجہ رسم اور ایسے مواقع پر مخصوص الفاظ happy birthday کے ساتھ مبارک باد دینا نہ تو شرعا ثابت ہے اور نہ ہی دعا کے جامع الفاظ ، بلکہ ایسے مواقع پر غیر مسلموں سے منقول دیگر مراسم کی طرح ایک رسم ہے، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔
جبکہ عورت کی ملازمت کا حکم یہ ہے کہ اگر اسے بنیادی ضروریات اور نان ونفقہ کی سہولت میسر ہو، شوہر یا والد وغیرہ کوئی اس کی کفالت کرتاہو،تو محض پیسہ کمانے کےلئے گھر کی چاردیواری سے نکل کر ملازمت اختیار کرنا خصوصا جہاں مردوں کے درمیان رہ کر کام کرنے کی نوبت آتی ہو ، بے پردگی اور خوف فتنہ کی وجہ سے شرعا ناجائز اور واجب الترک ہے۔لہذا ایسی ملازمت سے اجتناب لازم ہے۔
کماقال تعالیٰ:وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّْۃِ الْاُوْلَیٰ۔ (سورۃ الاحزاب: ایت 33)
و فی سنن الترمذی: روي عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم، قال: لایخلون رجل بإمرأۃ إلا کان ثالثہما الشیطان۔ (باب ماجاء في کراہیۃ الدخول علی الغیبات،ج1، ص 221)
وفی الدر المختار: والتہنئة بتقبل اللہ منا ومنکم لا تنکر الخ
وفی رد المحتار: تحت (قولہ : لا تنکر ) خبر قولہ "والتہنئة"، وإنما قال کذلک؛ لأنہ لم یحفظ فیہا شیء عن أبی حنیفة وأصحابہ، وذکر فی القنیة: أنہ لم ینقل عن أصحابنا کراہة، وعن مالک: أنہ کرہہا، وعن الأوزاعی: أنہا بدعة، وقال المحقق ابن أمیر حاج: بل الأشبہ أنہا جائزة مستحبة فی الجملة، ثم ساق آثاراً بأسانید صحیحة عن الصحابة فی فعل ذلک، ثم قال: والمتعامل فی البلاد الشامیة والمصریة "عید مبارک علیک" ونحوہ، وقال: یمکن أن یلحق بذلک فی المشروعیة والاستحباب؛ لما بینہما من التلازم، فإن من قبلت طاعتہ فی زمان کان ذلک الزمان علیہ مبارکاً، علی أنہ قد ورد الدعاء بالبرکة فی أمور شتی؛ فیو?خذ منہ استحباب الدعاء بہا ہنا أیضاً" اہ۔(باب العیدین ج 2، ص 169، ط: دار الفکر، بیروت)
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1