شہادت

بجلی کے کرنٹ سے مرنے والا شخص شہید کہلائیگا یا نہیں؟

فتوی نمبر :
94142
| تاریخ :
2026-04-13
عبادات / جنائز / شہادت

بجلی کے کرنٹ سے مرنے والا شخص شہید کہلائیگا یا نہیں؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
بعد از سلام ۔
مفتی صاحب اگر کوئی شخص بجلی کی کرنٹ سے مر جائے
تو اس کو شہید کہلانا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

آگ،پانی کے حادثے میں جو شخص فوت ہوجائے وہ تو حدیث کی رو سے حکماً شہید ہے ،البتہ بجلی سے مرنے والے کے مطابق اگرچہ کوئی صراحت موجود نہیں،تاہم محدثین کرام نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں شہداء کی جو اقسام بیان کی ہیں ،ان میں سے ناگہانی آفت سے مرنے والے کو بھی شہید حکمی میں شمار کیا گیاہے ،چنانچہ اس کے مطابق بجلی سے مرنے والے پر شہید حکمی کا اطلاق کیا جاسکتا ہے ۔)ماٰخوذ از تبویب، نمبر : (43428)

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مرقاۃ المفاتیح: واعلم أن الشهداء الحكمية كثيرة، وردت في أحاديث شهيرة، جمعها السيوطي في كراسة سماها: (أبواب السعادة في أسباب الشهادة) منها: ما ذكر، ومنها: صاحب ذات الجنب، والحريق،(الی قولہ) وعن علي رضي الله عنه: من حبسه السلطان ظلما فمات في السجن فهو شهيد، ومن ضرب فمات في الضرس فهو شهيد، وكل مؤمن يموت فهو شهيد. وعن أنس مرفوعا:«الحمى شهادة،اھ(ج:3،ص: 1132،رقم الحدیث: 1546،مط: دار الفکر)
و فی الدر المختار: وإلا فالمرتث شهيد الآخرة وكذا الجنب ونحوه، ومن قصد العدو فأصاب نفسه، والغريق والحريق والغريب والمهدوم عليه والمبطون والمطعون والنفساء والميت ليلة الجمعة وصاحب ذات الجنب ومن مات وهو يطلب العلم، وقد عدهم السيوطي نحو الثلاثين،اھ(كتاب الصلاة،باب الشهيد،ج: 2،ص: 252،مط: دارالفکر)
و فی ردالمحتار: ذكر الأجهوري قال في العارضة: من غرق في قطع الطريق فهو شهيد وعليه إثم معصيته وكل من مات بسبب معصية فليس بشهيد، وإن مات في معصية بسبب من أسباب الشهادة فله أجر شهادته وعليه إثم معصيته، وكذلك لو قاتل على فرس مغصوب، أو كان قوم في معصية فوقع عليهم البيت فلهم الشهادة، وعليهم إثم المعصية انتهى،اھ(كتاب الصلاة،باب الشهيد،ج: 2،ص: 253،مط: دارالفکر)
و فی الفقه الإسلامي وأدلته: والخلاصة: إن كل من مات. بسبب مرض أو حادث أو دفاع عن النفس، أو نقل من قلب المعركة حياً، أو مات في أثناء الغربة، أو طلب العلم، أو ليلة الجمعة، فهو شهيد آخرة.وحكم هؤلاء الشهداء في الدنيا، أي شهداء الآخرة: أن الواحد منهم يغسل ويكفن ويصلى عليه اتفاقاً كغيره من الموتى. أما في الآخرة فله ثواب الآخرة فقط، وله أجر الشهداء يوم القيامة.»اھ(أحكام الشهداء،شهيد في حكم الآخرة فقط،ج: 2،ص: 1590،مط: دارالفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94142کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بچہ کی ولادت کے دوران وفات ہونے والی عورت حکما شہید ہے

    یونیکوڈ   اسکین   شہادت 0
  • کن کن اموات میں شہادت کا رتبہ ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شہادت 0
  • نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہونے والا شہید حقیقی کے حکم میں ہے

    یونیکوڈ   اسکین   شہادت 0
  • مغوی شخص کو قتل کردیا جائے تو کیا وہ شہید کہلائے گا؟

    یونیکوڈ   شہادت 0
  • مردے کو زمین میں امانتاًدفن کرنے اور شہداء کے اقسام کے متعلق تفصیلی فتوی ۔

    یونیکوڈ   شہادت 0
  • پیٹ کی بیماری میں مرنے والے کی شہادت - عدت گزارنے کی جگہ - عدت میں سفید کپڑے پہننا

    یونیکوڈ   شہادت 0
  • بم بلاسٹ میں مارے جانے والے مسلمان کی شہادت کا حکم

    یونیکوڈ   شہادت 0
  • کیا کسی حادثہ سے مرنے والا شہید کہلائے گا؟

    یونیکوڈ   شہادت 0
  • ڈاکوؤں سے لڑتے ہوئے مرنے والا شہید کہلائے گا؟

    یونیکوڈ   شہادت 0
  • بجلی کے کرنٹ سے مرنے والا شخص شہید کہلائیگا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   شہادت 0
Related Topics متعلقه موضوعات