السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!محترم مفتی صاحب!
گزارش ہے کہ ایک شخص کے ساتھ آن لائن فراڈ ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس کے کریڈٹ کارڈ سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے نکال لیے گئے۔ یہ رقم دراصل بینک کی طرف سے ایک طرح کا قرض (Loan/Lending) شمار ہوتی ہے، جس کی ادائیگی اس شخص کے ذمے لازم ہے۔اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ:
کیا وہ شخص اس واجب الادا رقم کو "سودی رقم (Interest)" کے پیسوں سے بینک کو ادا کر سکتا ہے یا نہیں؟
اور اس صورت میں شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس کے لیے کیا حکم ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً،والسلام
واضح ہو کہ سودی رقم کااصل حکم یہ ہےکہ اسےاصل مالک یااس کے ورثاءتک پہنچانالازم ہے، اگراصل مالک یا اس کےورثاء کاعلم نہ ہویا ان تک پہنچاناممکن نہ ہو توایسی صورت میں بغیرنیت ثواب مستحق شخص پر صدقہ کرنا لازم ہے،اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا یا اسے اپنے واجب الادا قرض کی ادائیگی میں استعمال کرنا شرعاًجائزاوردرست نہیں،چنانچہ صورتِ مسئولہ میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے نکالی گئی رقم چونکہ سائل کے ذمے بطورِ قرض لازم ہوچکی ہے، (خواہ وہ رقم خود استعمال کی ہو یا فراڈ کے ذریعے نکل گئی ہو)لہذاسائل پراپنی حلال کمائی سے اس قرض کو ادا کرنا لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية.(ج: 7، فصل في حكم القرض، ص: 396، مط: سعید کراچی)
وفی ردالمحتارتحت قوله (إلا في حق الوارث إلخ): والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه،الخ(ج: 5، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ص: 99، مط: سعید کراچی)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: ولو كان الدين لمسلم على مسلم فباع المسلم خمرا وأخذ ثمنها وقضاه صاحب الدين كره له أن يقبض ذلك من دينه كذا في السراج الوهاج.(ج: 5، الباب السابع والعشرون في القرض والدين، ص: 367، مط: ماجدیۃ)
وفی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي : قال رحمه الله (وكره لرب الدين أخذ ثمن خمر باعها مسلم لا كافر) معناه إذا كان لشخص مسلم دين على مسلم فباع الذي عليه الدين خمرا، وأخذ ثمنها، وقضى به الدين لا يحل للدائن أن يأخذ ثمن الخمر بدينه، وإن كان البائع كافرا جاز له أخذه والفرق أن البيع في الوجه الأول باطل؛ لأن الخمر ليس بمال متقوم في حق المسلم فبقي الثمن على ملك المشتري فلا يحل له أخذه من البائع، وفي الوجه الثاني صح البيع؛ لأنه مال متقوم في حق الكافر، وملكه البائع فيحل الأخذ منه بخلاف المسلم لما ذكرنا،الی قولہ :وعلى هذا قالوا لو مات رجل، وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذوا منه شيئا، وهو أولى لهم، ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (ج: 6، فصل في البيع ،ص: 27، المطبعة الكبرى الأميرية -بولاق، القاهرة)