میری والدہ صاحبہ وفات پاچکی ہے، اور میں بیروزگار ہوں، لیکن ہمارا اپنا گھر اور زمین بھی ہیں،میری والدہ کے نام پہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے جوپیسے آرہےہیں، کیا وہ پیسے اب میرے لئے لینا جائز ہے؟
واضح ہو کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والا وظیفہ سر کا ر کی طر ف سے ایک عطیہ ہو تا ہے، اس لیے جب تک اصل مستحق اس وظیفہ پر قبضہ نہ کرلے، اس وقت تک یہ مال اس کی ملکیت شمارنہیں ہوتا، لہٰذا صورتِ مسئو لہ میں سائل کے لئے والدہ کے انتقال کے بعد ان کے نام پر جاری وظیفہ وصول کر کے استعمال میں لانا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الموسوعة الفقهية الكويتية :اختلف الفقهاء فيما إذا مات الموهوب له قبل القبول، هل تبطل الهبة بموته، أم أن حق القبول ينتقل إلى ورثته؟ وذلك على قولين:أحدهما: للحنفية والشافعية والحنابلة، وهو أن الموهوب له إذا مات قبل القبول بطلت الهبة، ولم يكن لورثته حق القبول من بعده، أشبه ما لو أوجب البيع فمات المشتري قبل القبول.وإذا مات بعد القبول وقبل القبض، فإن الهبة تبطل أيضا عند الحنفية والحنابلة وبعض الشافعية، لأنها لا تلزم ولا ينتقل الملك فيها إلا بالقبض، وقد انعدم ذلك بموت الموهوب له قبله، ولأن الهبة صلة، والصلات تبطل بالموت قبل القبض الخ (ثاني عشر - حق الموهوب له في قبول الهبة وقبضها، ج:38،ص:280،ناشر: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية – الكويت)