میری بیوی کافی دفعہ بولتی رہی ہے کہ مجھے تم میں انٹرسٹ نہیں ،میری شادی کو (14)سال ہوگئے ہیں، اب وہ بول رہی ہے مجھے چھوڑ دو، آزاد کردو، ہمارے دو بچے بھی ہیں ،میں کیا کروں؟ کیوں کہ چھوٹی چھوٹی بات پر ناراض ہوتی ہے، یہاں تک کہ میرے کسی بھائی اور بہن کی عزت بھی نہیں کرتی ،اب بتائیں وہ خود سے اپنی امی کے گھر چلی گئی ہے ،میں کیا کروں ؟
صورت مسؤلہ میں بیوی کا بغیر کسی معقول وجہ کے طلاق کا مطالبہ کرنا اور اپنے شوہر کو بلا وجہ تنگ کرنا شرعاً درست نہیں ،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہی ہے ،اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے مطالبہ طلاق سے فوری طور پر باز آئے اور اپنا گھر بسانے کی کوشش کرے ،اسی طرح سائل پر بھی لازم ہے کہ اس کے ساتھ نرم رویہّ اختیار کرے اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہ دے ،تاکہ باہم محبت ومودت کے ساتھ زندگی گزارنا آسان ہوسکے۔
کما جاء فی سنن الترمذی : عن ثوبان: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير بأس، فحرام عليها رائحة الجنة، هذا حديث حسن،) باب ما جاء في مداراة النساء،ج: 3،ص: 48رقم الحدیث: 1224،مط: دار الرسالۃ العالمیہ۔)
و فی سنن ابی داؤد : عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق،(باب في كراهية الطلاق ،ج: 2،ص: 255،رقم الحدیث: 2178،مط: المکتبۃ العصریہ۔)
و فی الدر: (فلو جب بعد وصوله إليها) مرة (أو صار عنينا بعده) أي الوصول (لا) يفرق لحصول حقها بالوطء مرة اھ،( باب العنين،ج: 3،ص: 495، مط: دارا الفکر بیروت۔)