پاک قطر تکافل جائز ہے یا نہیں؟
یا کوئی ایسی تکافل کمپنی بتا دیں جو شرعاً جائز ہو
واضح ہو کہ تکافل کا طریقہ کار رباو قمار اور غرر سے پاک باہمی تعاون و تبرع پر مشتل ہوتا ہے، جو مروجہ انشورنس کا جائز متبادل ہے، لہذا پاک قطر فیملی تکافل کمپنی بھی اگر اپنے تمام معاملات مستند مفتیان کرام پر مشتمل شرعیہ بورڈ کے زیر نگرانی سر انجام دیتا ہو اور اس کا عملی طریقہ کار بھی فراہم کردہ شرعی ضابطوں کے مطابق ہو تو اس کی پالیسی لینے کی شرعاً گنجائش ہوگی۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وأخرج الخطيب أن هارون الرشيد قال لمالك بن أنس: يا أبا عبد الله نكتب هذه الكتب يعني مؤلفات الإمام مالك ونفرقها في آفاق الإسلام لنحمل عليها الأمة، قال: يا أمير المؤمنين، إن اختلاف العلماء رحمة من الله تعالى على هذه الأمة، كل يتبع ما صح عنده، وكلهم على هدى، وكل يريد الله تعالى، (1 مقدمہ شامی، مطلب فی حدیث اختلاف امتی رحمۃ،ج،1،ص:68)
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0