السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
جی، حضرت مفتی صاحب!
اس مسئلہ کی شرعی تحریری وضاحت فرما دیں!!!
آیا شرعاً اس طرح کے تکافل میں ان دو بینکوں میں شامل ہونا کیسا ہے رہنمائی فرمادیں ۔۔
صورت مسئلہ یہ ہے
پالیسی
2020
یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ
2021 - حبیب بینک لمیٹڈ
POLICY
UBL. UNITED BANK LIMITED
HBL. HABIB BANK LIMITED
سالانہ پچاس ہزار روپے
منافع (Profit) فکس نہیں ہے
پالیسی کا نام :-
.-(UBL Pakaful Plan)
تکافل پلان
.-(HBL Tabeer Jubilee Plan)
) تغییر انشورنس)
اخراجات مقصد : اس کا مقصد والدین کو بچوں کی اعلیٰ تعلیم یا شادی کی ذمہ داری لیتا ہے اور پالیسی جاری رہتی ہے ۔
* بینک والوں کا کہنا ہے کہ ہم آپ کی رقم مختلف کمپینوں کو قرض (2000) کے طور پر دیتے ہیں ۔ اگر کمپنی کو اس سال کوئی منافع ہو گا تو وہ آپکو انعام کے طور پر رقم فراہم کرے گی ۔ اگر منافع نہیں ہوگا تو اس سال کوئی رقم نہیں دی جائے گی ۔
اسٹیٹ لائف بیمہ پالیسی
State Life Policy.
2013 میں کروائی گئی
سالانہ 20 ہزارا
سوال میں تکافل پالیسیوں کی مکمل تفصیل اور طریقہ کار موجود نہیں ، تاہم مذکور پالیسیاں اگر مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں شرعی ضابطوں کے مطابق وضع کی گئی ہوں تو ان پالیسیوں سے مستفید ہونے کی گنجائش ہوگی ،ورنہ نہیں .
قال اللہ تعالیٰ(احل اللہ البیع و حرم الربٰوا ) الآیۃ (پارہ 3، ایت نمبر 275 )۔
کما فی احکام القرآن للجصاصؒ: تحت قولہ تعالٰی (وحرم الربا) فانتظم قوله تعالى وحرم الربا تحريم جميعها لشمول الاسم عليها من طريق الشرع الخ (ومن أبواب الربا الشرعي السلم في الحيوان،ج 2، ص 188، ایت نمبر 274،ط:قدیمی)۔
وفیہ ایضًا: تحت قولہ تعالٰی (یسئلونک عن الخمر والمیسر، قل فیھما اثم کبیر) قال أبو بكر دلالته (الی قولہ) وقال ابن عباس وقتادة ومعاوية بن صالح وعطاء وطاوس ومجاهد الميسر القمار (الی قولہ) ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار قال ابن عباس إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال والزوجة وقد كان ذلك مباحا إلى أن ورد تحريمه الخ(باب تحريم الميسر،ج 2،ص 10،ایت نمبر 220،ط:قدیمی)۔
وفی صحیح مسلم: عن جابر قال: لعن رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ علیہ و سلم آكل الربا و موكله و كاتبه و شاهديه ، و قال ھم سواء الخ (کتاب البیوع ، ج: 3 ، ص: 1219 ، ط: دار احیاء التراث العربی)ـ
وفی کنز العمال : عن ابن عباس قال : لاتشارک یھودیا و لا نصرانیا، و لا مجوسیا، قیل : و لم؟ قال : لأنھم یربون و الربا لا یحل ( باب فی الربا و احکامہ، ج 4، ص 193، ط:مؤسسۃ الرسالۃ )۔
وفی الدر المختار: وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه.وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحرالخ (مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج 5،ص166،ط:سعید)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0