السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام کی خدمت میں عرض ہے کہ:
ایک دینی مدرسہ میں یہ صورتِ حال پیش آئی ہے کہ مدرسہ کے فنڈ (چندہ/وقفی رقم) سے طلبہ کے لیے عصری تعلیم (جیسے انگریزی وغیرہ) کا ٹیوشن کرایا جا رہا ہے، جو نمازِ مغرب کے بعد ہوتا ہے۔ یہ عصری تعلیم مدرسہ کے باقاعدہ دینی نصاب سے بالکل الگ ہے اور اس کا براہِ راست تعلق دینی تعلیم سے نہیں ہے۔
مزید یہ کہ:
مدرسہ میں دینی تعلیم کے لیے اساتذہ کی سخت ضرورت ہے،
موجودہ اساتذہ کی تنخواہیں نہایت قلیل ہیں،
اس کے باوجود مدرسہ کی رقم عصری ٹیوشن پر خرچ کی جا رہی ہے۔
ایسی صورت میں شرعاً یہ دریافت کرنا مقصود ہے کہ:
کیا مدرسہ کے پیسوں سے اس طرح عصری تعلیم کا ٹیوشن کرانا جائز ہے؟
خصوصاً جبکہ مدرسہ کی اصل ضرورت (دینی اساتذہ کی تقرری اور ان کی مناسب تنخواہیں) پوری نہیں ہو رہیں۔
براہِ کرم کتاب و سنت اور فقہِ اسلامی (بالخصوص فقہِ حنفی) کی روشنی میں اس مسئلہ کا واضح اور مدلل جواب مرحمت فرمائیں، تاکہ امانت کے تقاضے پورے ہو سکیں اور کسی قسم کی شرعی خلاف ورزی نہ ہو۔
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
واضح ہوکہ مدرسہ میں دی جانے والی رقومات اگر چندہ دینے والے اس صراحت کے ساتھ دیں کہ یہ رقومات صرف دینی تعلیم کی ضروریات میں صرف ہوں، تو ایسی صورت میں ان رقومات کو عصری تعلیم کے اخراجات میں خرچ کرنا جائز نہ ہوگا،تاہم اگر چندہ دینے والوں نے اپنا چندہ مدرسہ کی عمومی ضروریات میں استعمال کرنے کی نیت سے دیا ہو،تو ایسی صورت میں ان رقومات سے طلبہ کے لیے ضروری عصری علوم کی تعلیم پر خرچ کرنا جائز ہے،تاہم مدرسہ انتظامیہ کاعصری علوم کی تعلیم پر اس حد تک زور دینا کہ اس کے نتیجے میں علوم دینیہ کی حصول میں کمی یا کوتاہی پیدا ہوجائے مناسب نہیں،اس لیے مدرسہ انتظامیہ کوچاہیے کہ دینی تعلیم کی ضروریات کو مقدم رکھےاوراگر اس کےساتھ ساتھ طلبہ کو عصری تعلیم سیکھانےکی ترتیب بن سکے،اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
کما فی ردالمحتار: وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل.(کتاب الزکاۃ، ج :2، ص :269، ط: سعید)
وفیہ ایضا: على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة، وصرح الأصوليون بأن العرف يصلح مخصصًا(کتاب الوقف، مطلب مراعاۃ غرض الواقفین الخ،ج:4،ص:445،ط:سعید)