السلام علیکم ، کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں ہمارے یہاں یوکے میں میت کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، بعض کمیٹیاں اپنے شہر تک محدود ہیں اور بعض دوسرے شہروں کو بھی کور کرتی ہیں، طریقہ کار ہر ایک کا الگ الگ ہے، بعض کمیٹیاں سالانہ 20پونڈ لیتی ہیں ،اس میں اس گھر کے میاں بیوی اور 16سال سے کم عمر بچے کور ہوتے ہیں اور بچی کی جب تک شادی نہ ہوئی ہو،وہ بھی والدین کے ساتھ کور ہوتی ہے اور لڑکے جب 17 سال کے ہوتے ہیں تو پہلے سال ان کی رجسٹریشن فیس ہوتی ہے 30 پونڈ، اور بعض کمیٹیوں کی 100 پونڈ رجسٹریشن فیس ہے اور بعض کی 50 پونڈ اس میں اگر اس خاندان کی فوتگی ہو جائے تو میت کا کفن دفن اور ایک دن کا کھانا شامل ہوتا ہے، یعنی ان سب اشیاء کی ذمہ داری کمیٹی پر ہوتی ہے ،وہ رقم ادا کرتی ہے، آج کل تقریبا 6000 پونڈ خرچہ آتا ہے ،جو ایک مڈل کلاس فیملی کے لیے زیادہ رقم ہے جو لوگ سالانہ فیس ادا کرتے ہیں تو کمیٹیاں ان ہی کو کور کرتی ہیں، جو فیس ادا نہیں کرتے تو یہ کمیٹیاں انکو یہ سہولت فراہم نہیں کرتی، بعض کے ہاں فیس زیادہ ہے اور بعض کے ہاں کم، کوئی کمیٹیاں 50 سال سے زائد عمر افراد کو کور نہیں کرتے، تو کسی کے ہاں کھانا شامل نہیں ہے، پوچھنا یہ ہے کہ ان کمیٹیوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اگر ناجائز ہے تو متبادل کیا ہے ؟ اور جو ان کمیٹیوں کے پاس پڑا ہے، اس شرعی حیثیت کیا ہے؟ بسااوقات یہ مال بڑی رقم بن جاتی ہے، کیونکہ یہ کمیٹیاں 40 ،50 سال سے قائم ہیں۔ والسلام
مروجہ میت کمیٹی فنڈ کا اجرا ء بہت سی خامیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے، جبکہ مذکور کمیٹی میں جمع شدہ رقم کی حیثیت امانت یا قرض کی بنتی ہے، اگر ممبرِ کمیٹی صاحبِ نصاب ہو تو سال گزرنے پر اپنی جمع کروائی گئی داخلہ فیس اور ماہانہ فیس کے بقدر اس کو زکوۃ دینا لازم ہوگا ،بشر طیکہ وہ رقم خرچ نہ ہوئی ہو ،البتہ اگر ضرورت و احتیاج کی وجہ سے ایسی کمیٹی بنانا ناگزیر ہو تو اس کے لیے یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ مذکور کمیٹی/ٹرسٹ با قاعدہ وقف فنڈ کی بنیاد پر قائم کی جائے، اس طور پر کہ شروع میں اس کمیٹی کے کچھ ممبران مخصوص رقم وقف کر کے مستقل ایک فنڈ قائم کریں جو کہ کمیٹی کے قائم رہنے تک ( مطلوبہ ) اخراجات کے لیے استعمال نہ ہو، بلکہ وہ رقم محفوظ رہے، اس کے بعد کمیٹی/ٹرسٹ میں شامل ہونے والے افراد باہمی رضامندی سے متعین مقدار میں اس قائم کردہ وقف فنڈ میں رقم جمع کراتے رہیں، جو کہ فقہی لحاظ سے مملوکِ وقف شمار ہو گی، اور اس مملوکِ وقف (چندہ) کو کمیٹی / ٹرسٹ کی شرائط وضوابط کے مطابق مطلوبہ اخراجات میں خرچ کیا جائے، تو مذکور مقصد کے لئے درجِ بالا طریقۂ کار کے مطابق کمیٹی/ٹرسٹ بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس جمع شدہ رقم پر زکوۃ کا حکم بھی نہیں لگےگا۔
کمافی سنن الترمذی: حدثنا أحمد بن منیع و علی بن حجر قالا: حدثنا سفیان بن عیینۃ عن جعفر بن خالد عن أبیہ عن عبد اللّٰہ بن جعفرؓ قال: لما جاء نعی جعفرؓ قال النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم: "اصنعوا لأہل جعفرؓ طعاما فإنہٗ قد جاء ہم ما یشغلہم(باب ما جاء فی الطعام یصنع لأھل المیت، 195/1، ط: قدیمی)
وفی ردالمحتار: (قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت و الأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم،لقوله صلى الله عليه و سلم -”اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم“ حسنه الترمذي و صححه الحاكم ولأنه بر ومعروف ، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون الخ(مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت، ج:2،ص:240،ط:سعید)۔
وفیه ایضاً: ولما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية وغيرها في وقف الدراهم و الدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى ؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز و قفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري و الله تعالى أعلم،و قد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها و لم يحك خلافا اهـ ما في المنح قال الرملي: لكن في إلحاقها بمنقول فيه تعامل نظر إذ هي مما ينتفع بها مع بقاء عينها على ملك الواقف ،وإفتاء صاحب البحر بجواز وقفها بلا حكاية خلاف لا يدل على أنه داخل تحت قول محمد المفتى به في وقف منقول فيه تعامل ؛ لاحتمال أنه اختار قول زفر و أفتى به وما استدل به في المنح من مسألة البقرة الآتية ممنوع بما قلنا إذ ينتفع بلبنها وسمنها مع بقاء عينها لكن إذا حكم به حاكم ارتفع الخلاف الخ(مطلب فی وقف المنقول،ج:4،ص:363،ط:سعید)۔