چندہ

کسی کے ذمہ مسجد کا قرض ہو تو چندہ دینے والے لوگ معاف کرسکتے ہیں؟

فتوی نمبر :
49733
| تاریخ :
معاملات / امانات / چندہ

کسی کے ذمہ مسجد کا قرض ہو تو چندہ دینے والے لوگ معاف کرسکتے ہیں؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
ہمارے مسجد کے مؤذن صاحب تھے ان کو ایک ہزار روپے ماہانہ دیا جاتاتھا اور ان کے پاس مسجد کا پیسہ جو جمعہ میں وصول کیا جاتا ہے امانت کے طور پر ان ہی کے پاس رہتا تھا اور وہ اس پیسہ کو مسجد کی ضروریات میں خرچ کرتے جو ایک کاپی پر لکھا جاتا تھا آمدنی اور اخراجات سب لکھے جاتے تھے اب وہ انتقال کر گئے ہیں اور حساب کیا گیا تو ان کے اوپر 4000 3 ہزار روپے ہوئے جو ان کے ذمے رہ گیا تو کیا سارے گاؤں کے آدمی اگر اس پیسے کو معاف کر دیں تو کیا معاف ہو سکتا ہے حالانکہ اس گاؤں میں باہر کے بھی لوگ نماز جمعہ پڑھتے ہیں اور وہ بھی پیسہ مسجد کو دیتے ہیں تو اس طرح مسجد کا قرض معاف ہوسکتا ہے یا ان کے وارثین سے اس رقم کو وصول کیا جائے گا یا کوئی اور راستہ ہو تو بتائیں؟ مہربانی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کر وہ تفصیل کے مطابق مذکور مؤذن کے پاس مسجد کی جو رقم امانت کے طور پر رکھی تھی ، اگر اس سے اس میں کسی قسم کی کو تاہی ہوگئی ہو یا ان پیسوں کو اپنے استعمال میں خرچ کیا ہو اور باقاعدہ اس پر گواہ یا تحریری ثبوت بھی موجود ہو، یا مرحوم کے ورثاء اس کا اقرار کرتے ہوں تو صرف اہلِ محلہ کے معاف کرنے سے وہ بری الذمہ نہیں ہو گا، لہذا اگر اس کے ترکہ میں مال وغیرہ موجود ہو تو اس سے مذکور رقم وصول کرلی جائے، البتہ اگر اہل محلہ میں سے کچھ افراد مرحوم کی طرف سے مسجد کے فنڈ میں رقم جمع کر لیں تو امید ہےکہ ان شاء اللہ مرحوم برئ الذمہ ہو جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذي: عن أَبي هُرَيْرَة قالَ قَالَ النبيّ صلى الله عليه وسلم "أدّ الأمَانَةَ إلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ".
قوله (أد الأمانة) هي كل شيء لزمك أداؤه والأمر للوجوب قال الله تعالى إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها (إلى من ائتمنك) أي عليها (ولا تخن من خانك) أي لا تعامله بمعاملته ولا تقابل خيانته بخيانتك اھ (7/ 496)
و في الفتاوى الهندية: رجل أعطى درهما في عمارة المسجد أو نفقة المسجد أو مصالح المسجد صح لأنه وإن كان لا يمكن تصحيحه تمليكا بالهبة للمسجد فإثبات الملك للمسجد على هذا الوجه صحيح فيتم بالقبض كذا في الواقعات الحسامية اھ (2/ 460)
و في الموسوعة الفقهية الكويتية: د - وجوب الضمان بالجحود أو التعدي أو التفريط . هـ - سقوط الضمان إذا تلفت الأمانة دون تعد أو تفريط . (6/ 237)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 49733کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موت یا کسی حادثہ کی صورت میں تعاون کے لیے ماہانہ چندہ جمع کرنا

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • امانت (چندہ ) کی رقم میں تصرف کرنا

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • میت کمیٹی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • چندے کے پیسوں سے ادارہ چلانے اور اپنی تنخواہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • کسی کے ذمہ مسجد کا قرض ہو تو چندہ دینے والے لوگ معاف کرسکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • کسی طالب علم کا اپنی ذات کیلئے چندہ کرنا

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • مسجد کے چندہ سے امام مسجد کی معاونت کرنا

    یونیکوڈ   چندہ 0
  • مدرسہ کے چندہ سے طلباء کو عصری تعلیم دلوانا

    یونیکوڈ   چندہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات