السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ مفتیان عظام !
طیب تکافل جو کہ سٹیٹ لائف انشورنس کا ونڈو تکافل ہے ۔اور وہ مفتی حسان کلیم صاحب کے زیر اہتمام چل رہا ہے
کیا” طیب تکافل“ میں ملازمت کرنا اور تکافل لینا چاہئیے ؟
مذکور تکافل سسٹم اگر واقعۃً مستند علماءکرام اور شریعہ بورڈ کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق چلایا جارہا ہو ، تو ایسی صورت میں ملازمت اختیار کرنے اور پالیسی لینے کی شرعاً گنجائش ہوگی ۔
ماخذ الفتوی
کما قال اللہ تعالی : ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمۡرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَنۡ عَادَ فَأُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ،آیۃ : 275،سورۃ البقرہ ۔)
و فی صحیح البخاری : إن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الدم، وثمن الكلب، وكسب البغي، ولعن آكل الربا وموكله، والواشمة والمستوشمة، والمصور.رقم الحدیث : 5617 ۔)
و فی مسند ابی حنیفۃ : عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ۔)
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0