کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون سات ماہ دس دن کے حمل سے ہے ،اور بچے کے سر میں پانی ہے جس کی وجہ سے بچے کے سر کا حجم بڑھ رہا ہے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ اگر اس کا ابھی اپریشن کروا لیا جائے تو یہ بچے اور ماں دونوں کے لئے مفید ہے ، ابھی آپریشن کروانے میں بچے کی جان بچنے کے چانسز زیادہ ہیں لیکن اگر وقت تک انتظار کیا جائے اور ابھی آپریشن نہ کروایا جائے تو بچے کی جان کو بھی خطرہ ہے اور اس کی ماں کی جان کو بھی خطرہ ہے ، اس صورت حال میں ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ آپریشن کروا سکتے ہیں یا نہیں ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیلات کے مطابق بچے کے سر میں پانی جمع ہونے کے سبب اگر بچے کی نارملی پیدائش تک انتظار کی صورت میں بچے اور ماں دونوں کو خطرہ ہو ،اور فی الوقت آپریشن کروانا بچے اور ماں دونوں کے لئے مفید ہو اور یہ بات باقاعدہ دیندار ماہر اور متعلقہ شعبے کے ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے ثابت ہو جائے تو ایسی صورتِ حال میں مذکورہ خاتون کے لیے قبل از وقت آپریشن کروانا جائز ہے ۔
کمافی بدائع الصنائع :حامل ماتت فاضطرب في بطنها ولد فإن كان في أكبر الرأي أنه حي يشق بطنها لأنا ابتلينا ببليتين فنختار أهونهما وشق بطن الأم الميتة أهون من إهلاك الولد الحي .(ج 11/ص 28)
وفی مجلة مجمع الفقه الاسلامي :النظر في موضوع إسقاط الجنين (أي إجهاضه) المشوه خلقيًا وأقر بالأغلبية ما يلي: إذا كان الحمل قد بلغ مائة وعشرين يومًا لا يجوز إسقاطه ولو كان التشخيص الطبي يفيد أنه مشوه الخلقة إلا إذا ثبت بتقرير لجنة طبية من الأطباء الثقات المختصين أن بقاء الحمل فيه خطر مؤكد على حياة الأم فعندئذ يجوز إسقاطه سواء أكان مشوهًا أم لا وذلك دفعًا لأعظم الضررين.(2030/9)
وفی الفتاوى الهندية: العلاج لإسقاط الولدإذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لايجوز، وإن كان غير مستبين الخلق يجوز، وأما في زماننا يجوز على كل حال، وعليه الفتوى، كذا في جواهر الأخلاطي. وفي اليتيمة: سألت علي بن أحمد عن إسقاط الولد قبل أن يصور؟ فقال: أما في الحرة فلايجوز قولاً واحداً، وأما في الأمة فقد اختلفوا فيه، والصحيح هو المنع، كذا في التتارخانية …. امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفةً أو مضغةً أو علقةً لم يخلق له عضو، وخلقه لايستبين إلا بعد مائة وعشرين يوماً: أربعون نطفةً وأربعون علقةً وأربعون مضغةً، كذا في خزانة المفتين. وهكذا في فتاوى قاضي خان ((5/ 356)