السلام علیکم! میری بہن پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔ الٹرا ساؤنڈ کروانے پر پتہ چلا کہ بچے کے اندر خلقی طور پر خرابیاں ہیں اور مجھے ڈاکٹروں نے حمل ضائع کروانے کا مشورہ بھی دیا، کیونکہ سب نے کہا کہ بچہ کے زندہ رہنے کا امکان نہیں تو اس لئے ہمیں حمل ضائع کروانا پڑا۔ کیا یہ جائز تھا یا گناہ تھا، جس پر معافی اور توبہ کرنی چاہیے ؟
حمل کے چار ماہ گزرنے پر بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کو ضائع کرنا ناجائز اور حرام تھا، چنانچہ دونوں میاں بیوی اپنے اس عمل کی وجہ سے انسانی نفس کے قتل کے مرتکب اور بہت سخت گناہ گار ہوئے ہیں لہذا دونوں پر بصدیق دل توبہ و استغفار لازم ہے۔
قال الله تبارک و تعالى : {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً } [النساء: 92]
وفي حاشية ابن عابدين : (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما اھ (3/ 176)
و في الفتاوى الهندية: العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه كالشعر والظفر ونحوهما لا يجوز اھ (5/ 356)
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0