السلام علیکم !
محترم مفتی صاحب ! میں جاننا چاہتا ہوں کہ کنڈم یا گولی یا کوئی دوسری تدبیر حمل کے روکنے کے لیے اور بچہ کی پیدائش میں وقفہ کے لیے استعمال کرنا صحیح ہے کہ نہیں ؟تا کہ بچہ کی پرورش متاثر نہ ہو۔
مستفتی: ۔۔۔ احمد سری نگر
اگر کوئی ماہر معالج مزید حمل کو پہلے سے موجود دودھ پیتے بچے یا خود ماں کی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیدے اور کچھ عرصہ کے لیے وقفہ کرنے کا مشورہ دے تو اس صورت میں موانع حمل کی عارضی تدبیر(خواہ وہ کنڈم ، غزل ، انجکشن اور گولی وغیرہ کے ذریعہ ہوں یا کسی اور تدبیر کے ذریعہ) ایک معقول عرصہ تک اسے اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ اور کوئی ایسی تدبیر اختیار کرنا جس سے بچہ پیدا ہونے کی صلاحیت ہی ختم ہو جا ئے خواہ یہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے قطعا جائز نہیں ،اس سے احتراز و اجتناب لازم ہے۔
ففي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: وقد صرح الفقهاء بأنه يحرم استعمال ما يقطع الحبل من أصله، (إلی قوله) أما ما يبطئ الحبل مدة، ولا يقطعه من أصله، وهو المعروف بتنظيم الحمل، فلا يحرم، بل إن كان لعذر كتربية ولد، لم يكره أيضاً اھ (4/ 2649) والله اعلم بالصواب
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0