محترم مفتی صاحب ،السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ!
موضوع: State Life کے Tayyab Takaful پروگرام کے بارے میں شرعی رہنمائی کی درخواست
محترم مفتی صاحب! میں آپ کی خدمت میں ایک اہم شرعی مسئلہ کے بارے میں رہنمائی کے لیے رجوع کر رہا ہوں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، آج کل مختلف ادارے تکافل کے نام سے انشورنس کا ایک متبادل اسلامی نظام متعارف کرا رہے ہیں۔ ان میں State Life Insurance Corporationکا "Tayyab Takaful" پروگرام بھی شامل ہے، جو کہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ مکمل طور پر شریعت کے اصولوں کے مطابق ہے اور سودی نظام سے پاک ہے۔میری آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں:
1. کیا "Tayyab Takaful" پروگرام شرعاً جائز اور حلال ہے؟
2. کیا یہ واقعی روایتی انشورنس سے مختلف اور شریعت کے مطابق ہے؟
3. کیا کوئی مسلمان مالی تحفظ یا فیملی سیکیورٹی کے لیے یہ پروگرام لے سکتا ہے؟
میں چاہتا ہوں کہ آپ قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں اس کا واضح شرعی حکم بیان فرمائیں ،تاکہ میں اس پروگرام کے بارے میں مطمئن ہو کر فیصلہ کر سکوں۔اللہ تعالیٰ آپ کے علم، فہم اور خدمات میں برکت عطا فرمائے۔دعاؤں کا طلبگار،
واضح ہو کہ انشورنس اور تکافل دو الگ الگ قسم کے معاملات ہیں، انشورنس سود، قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، جبکہ تکافل باہمی تعاون و تناصر اور تبرع پر مشتمل انشورنس کا ایک جائز متبادل نظام ہے، جس کی بنیاد وقف پر ہے، چنانچہ اگرکوئی تکافل پروگرام مستند علماءِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں وقف اوروکالہ وغیرہ شرعی اصولوں کے مطابق چلایاجارہاہو تو ان سے تکافل پالیسی لینا شرعاً جائزاوردرست ہوگا ،جبکہ مذکورہ پروگرام (Tayyab Takaful)کے کاروباری طریقۂ کار، معاہدات اور عملی تفصیلات کا مکمل و مستند علم ہمارےپاس موجود نہیں، اس لیے اس کے جواز یا عدمِ جواز کے بارے میں شرعی حکم بیان کرنا ممکن نہیں۔
لہٰذا اگرسائل کو اس کمپنی کے شریعہ بورڈ میں شامل علماء کرام پر اطمینان اور اعتماد ہو، تو ان کی رائے کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش ہے۔ بصورتِ دیگر سائل کو چاہیے کہ اس کمپنی کے مکمل طریقۂ کار، معاہداتی دستاویزات اور متعلقہ تفصیلات دارالافتاء میں پیش کرے، تاکہ اس پر غوروخوض کے بعد واضح شرعی حکم سے آگاہ کیا جاسکے۔
کماقال اللہ تعالیٰ: "یٰا أیہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربا ان کنتم ٓمؤمنین"۔ (البقرۃ،آیت: ۲۷۸)۔
وایضًا قال: "وتعاونوا علی البر والتقویٰ"۔ (المائدۃ، آیت:2)
وفي الصحيح للامام مسلم رحمہ اللہ: "عن جابر، قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.(ج:٢، باب لعن آكل الربا ومؤكله،ص:٢٧،ط:قديمي كتب خانه)
وفي ردالمحتار:(قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص،(ج:٦،فصل في البيع كتاب الحظروالاباحة،ص:٤٠٣،مط:سعيد)
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0