کیا شوہر ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ پر اپنی دو بیویوں کے ساتھ مباشرت (جسمانی تعلق) قائم کر سکتا ہے؟
واضح ہوکہ اگر کسی شخص کی ایک سے زائدبیویاں ہوں ،تو ایک ہی بستر پر دوسری بیویوں کی موجودگی میں ایک یا دوبیویوں کے ساتھ صحبت قائم کرنا انتہائی بے حیائی اور خلاف شرع کام ہے، لہذا کسی شوہر کے لئے ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری بیوی کے ساتھ صحبت کرنا درست نہیں،نیز ایسی صورت میں چونکہ ایک سوکن کا دوسری سوکن کےستر عورت کو دیکھنا بھی لازم آتاہے، جو کہ شرعاً ناجائز ہے، اسی وجہ سے شوہر کو اس طرح مجامعت کرنے سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
کمافی مشكاة المصابيح: وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم:«لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي ثوب وَاحِد» رَوَاهُ مُسلم(باب النظر،ص:268،ط:قدیمی کتب خانہ)
وفی رد المختار: ويكره للرجل أن يطأ امرأته وعندها صبي يعقل أو أعمى أو ضرتها أو أمتها أو أمته(باب القسم،ج:3،ص:208،ط:سعید)
وفی البحر الرائق: قال - رحمه الله تعالى - (والمرأة للمرأة والرجل للرجل) وهذا هو القسم الرابع من التقسيمات ومعناه المرأة للمرأة والرجل للرجل يعني: نظر المرأة إلى المرأة كنظر الرجل إلى الرجل حتى يجوز للمرأة أن تنظر منها إلى ما يجوز للرجل أن ينظر إليه من الرجل إذا أمنت الشهوة والفتن؛ لأن ما ليس بعورة لا يختلف فيه الرجال والنساء(کتاب الکراھیۃ،ج:8،ص:193،ط:رشیدیۃ)