السلام علیکم ،
میں کراچی میں رہتا ہوں اور میڈیکل کالج میں داخلہ لینا چاہتا ہوں۔ داخلے کے لیے ایک مخصوص میرٹ ضروری ہوتا ہے۔ کراچی میں دوسرے شہروں کے طلبہ بھی داخلہ لے سکتے ہیں، اور ان میں سے بہت سے انٹر بورڈ کے امتحانات (جو میرٹ کا 40 فیصد حصہ بنتا ہے) میں نقل یا پیسے دے کر نمبر بڑھوا لیتے ہیں۔ اس طرح ان کے نمبر بہت زیادہ آ جاتے ہیں، جب کہ ہم محنت کرنے والے طلبہ کی محنت ضائع ہو جاتی ہے اور ہماری نشستیں چھن جاتی ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ: اگر مجھے یقین ہو کہ میں اپنی محنت اور قابلیت کے اعتبار سے اس نشست کا اصل حق دار ہوں، اور اگر میں نمبر نہ بڑھواؤں تو دھوکے یا رشوت سے نمبر لینے والے لوگ میری نشست لے جائیں گے، تو کیا ایسی صورت میں میرے لیے اپنے نمبر بڑھوانے کے لیے پیسے دینا شرعاً جائز ہو گا؟
میں نے یہ بھی سنا ہے کہ اگر کوئی اپنا حق واپس لینے کے لیے رشوت دیتا ہے تو بعض صورتوں میں اسے جائز کہا جاتا ہے۔ کیا میری صورتحال اس میں شامل ہوتی ہے؟
واضح ہو کہ رشوت لینا اور دینا دونوں شرعا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے ،خواہ مقصد کسی فائدے کا حصول ہو یا کسی نقصان سے بچاؤ کرنا ،اس لئے ناحق طریقے سے نمبر بڑھوانا ،نقل کروانا ،پیسے دیکر نتائج میں تبدیلی کروانا صریح دھوکہ ،جھوٹ اور خیانت کے زمرے میں آتا ہے جس سے احتراز لازم ہے ،یہ بات درست ہے کہ فقہاء کرام نے بعض مجبوری کی صورت میں رشوت دینے کی گنجائش بیان کی ہے ،لیکن وہ اس صورت میں ہےکہ اگر کوئی شخص اپنا ثابت شدہ حق حاصل کرنے کیلئے مجبوراً رشوت دے اور رشوت نہ دینے کی صورت میں اس کا ثابت شدہ حق ضائع ہونے کا اندیشہ قوی ہو تو اس صورت میں گناہ رشوت لینے والے پر ہوگا ،تاہم یہ رخصت انتہائی محدود اور تنگ دائرے میں ہے اس کا اطلاق عمومی اور ہر جگہ پر نہیں ہوتا ،لہذا صورت مسؤلہ میں میڈیکل کالج کی نشست قانونی طور پر کسی ایک فرد کا متعین حق نہیں ہوتی ،بلکہ یہ ایک مسابقتی عمل میں کامیابی حاصل کرنے سے ملتی ہے ،چنانچہ غلط طریقے سے نمبر بڑھوا کر اس مسابقتی عمل پر اثر انداز ہونا اور اس نشست سے متعلق یہ مفروضہ قائم کرنا کہ "یہ میرا حق ہے"درست نہیں ،کیوں کہ حق وہی ہے جو درست اور جائز طریقے سے ثابت ہو،لہذا سائل کیلئے نمبروں میں ناجائز اضافہ کروانے کے لیے پیسہ دینا شرعاً جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی سنن ترمذی: عن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي،(باب ما جاء في الراشي والمرتشي،ج: 3،ص: 173،رقم الحدیث: 1386،مط: دار الرسالۃ العالمیۃ)
و فی المبسوط للسرخسی: وأخذ المال ليكف عن الظلم رشوة فيكون حراما لقوله صلى الله عليه وسلم «الراشي والمرتشي في النار» ولقوله صلى الله عليه وسلم: «لعن الله الراشي والمرتشي والرائش،(كتاب الصلح في العقار،ج: 20،ص: 140،مط: دار المعرفۃ)
و فی الدر: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب،اھ ( كتاب القضاء،ج : 5، ص : 362،مط: دار الفکر)
و فی الموسوعۃ الفقہ: أن الفقهاء اختلفوا فيما لو كان يستحق الباذل للرشوة أو المال مستحقا للقضاء، لكنه لا يستطيع أن يحصل على منصب القاضي إلا بدفع الرشوة، هل يجوز له بذل المال لتحصيل القضاء أم يحرم مطلقا؟فنص جمهور الفقهاء الحنفية والمالكية والشافعية في الجملة عندهم على تفصيل يأتي بيانه- إلى أنه يجوز بذل المال والرشوة إذا تعين للقضاء ولم يستطع أن يتولى إلا برشوة،اھ (باب بذل المال لتولية القضاء ودفع الرشوة له،ج: 23،ص: 322،مط: دار التقوی)