محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا دودھ، دہی وغیرہ بیچنے کا کاروبار ہے، ہمارے اکثر سپلائرز گائے کا تازہ دودھ لاتے ہیں اور مارکیٹ میں بھی لوگ گائے بھینس کا تازہ دودھ پسند کرتے ہیں، عرض یہ ہے کہ ہم جو دہی بناتے ہیں خالص گائے کے دودھ سے تو اس میں صحیح گاڑھاپن نہیں ہوتا اور گاہک کی اچھی رغبت کے لیے گائے کے دودھ کے ساتھ خشک دودھ کو بنا کر ملادیتے ہیں، جس سے دہی کی صورتاً کیفیت اچھی یعنی گاڑھا پن زیادہ ہو جاتا ہے، خشک دودھ کا مقدار تازہ کے مقابل ۱۰ فیصد ہوتا ہے۔
نوٹ: تازہ دودھ اور خشک دودھ میں صرف اتنا فرق ہے کہ خشک دودھ سے گھی نہیں نکلتا، لہٰذا آپ صاحبان سے التماس ہے کہ شریعت کی نگاہ سے یہ کام کیسا ہے؟ (جائز یا ناجائز)۔
تازہ دودھ کے ساتھ دس فیصد خشک دودھ ملانے میں اگر واقعۃً مذکور فائدہ ہوتا ہو اس کا مقصد دھوکہ دہی اور ملاوٹ نہ ہو تو اتنی مقدار میں خشک دودھ ملانے کی گنجائش ہے ورنہ نہیں، تاہم اگر اس سے خریدار کو آگاہ کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
ففی مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «طلب كسب الحلال فريضة بعد الفريضة» . رواه البيهقي في شعب الإيمان (2/ 847)
وفی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: عن أبی هریرۃ «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال: " ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، من غش فليس مني» ". رواه مسلم. (إلی قولہ) (قال أفلا جعلته) قال أسترت عينه أفلا جعلت البلل (فوق الطعام حتى يراه الناس) فيه إيذان بأن للمحتسب أن يمتحن بضائع السوقة ليعرف المشتمل منها على الغش من غيره. (من غش) أي خان وهو ضد النصح (فليس مني) أي ليس هو على سنتي وطريقتي. قال الطيبي: من اتصالية كقوله - تعالى - {المنافقون والمنافقات بعضهم من بعض} [التوبة: 67] (رواه مسلم) وروى الترمذي الجملة الأخيرة بلفظ " «من غش فليس منا» " ورواه الطبراني في الكبير وأبو نعيم في الحلية عن ابن مسعود بلفظ " «من غشنا فليس منا، والمكر والخداع في النار» ". (5/ 1935)
وفی الدر المختار: لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام اھ(5/ 47) واللہ أعلم بالصواب!