السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک کمپنی میں جاب کرتا ہوں جو اپنے ایمپلائی کو سیلف انشورنس اور پیرنٹس انشورنس کی فیسلیٹی دیتی ہے، اس میں ہوتا یہ ہے کہ کمپنی کسی بھی انشورنس کمپنی سے کنٹریکٹ کرتی ہے اور ہمیں ایک کارڈ دیا جاتا ہے، جو کسی بھی میڈیکیشن کے اگینسٹ پر سلیکٹڈ ہسپتالوں میں اسے یوزکیا جاسکتا ہے ،جیسے کہ اسکی حد ہوتی ہے، جیسے کہ 500,000 تک اگر اسکے اندر خرچہ ہو تو وہ انشورنس کمپنی دیگی اور ہماری سیلری سے اس سلسلے میں کچھ بھی ڈیڈکشن نہیں ہوتی ۔
اب ایک دوسری پالیسی ہے جس میں پیرنٹس انشورنس آفر کی جاتی ہے اور سب سے پوچھا جاتا ہے کہ اگر کوئی کروانا چاہے تو مرضی ہوتی ہے ،اگر کوئی ایمپلائی ایگری کرتا ہے تو سیلری سے ایک اسپیسیفک اماؤنٹ ڈیڈکٹ ہوتی ہے اور اسکے بدلے میں ویسا ہی کارڈ مِل جاتا ہے جیسے کہ ایمپلائی کے کیس میں ملتا ہے کہ ایک خاص رقم تک اس سے علاج کرایا جاسکتا ہے جو انشورنس کمپنی کے ذمے ہوگی۔اور اگر حالات بھی تھوڑے مشکل ہوں پھر بھی جواب ایسا ہی رہےگا ؟ براہِ مہربانی اس بارے میں وضاحت کریں کہ کیا حکم ہے ؟تاکہ کسی بھی گناہ سے بچ سکیں ۔
صورت مسئولہ میں اگرکمپنی سیلف انشورنس اسکیم کے تحت اپنے ملازمین کوطبی سہولیات فراہم کرنے کے عوض ان کی تنخواہ سے کسی قسم کی کٹوتی نہ کرتی ہو تو ایسی صورت میں ملازمین کے لیے مذکورہ سہولت سے فائدہ اُٹھانے کی گنجائش ہے، اوریہ سہولت ملازمین کے حق میں کمپنی کی طرف سے تبرّع اور احسان شمارہوگی البتہ چونکہ مروّجہ انشورنس کمپنیوں کا طریقہ کار سود اور جوئے کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، اس لئے کمپنی انتظامیہ انشورنس کمپنی کے ساتھ اس قسم کا معاہدہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گی۔
جبکہ سائل کی ذکرکردہ پیرنٹس انشورنس اسکیم میں باقاعدہ ملازم کو اپنی مرضی و اختیارسے ایک مخصوص رقم اپنی تنخواہ سےماہانہ پریمیم کے طورپر کٹوانے کامعاہدہ کرناپڑتاہے،اورمذکورمعاہدہ چونکہ سودوقمار اور غررپرمشتمل ہوتاہے ،لہذااس قسم کا معاہدہ کرنے سے احتراز چاہئیے ، لیکن اگرکسی نے لاعلمی میں ایسامعاہدہ کرلیاہو توایسی صورت میں انشورنس کمپنی کے کارڈپرصرف اسی قدررقم سے علاج معالجہ کروانےکی اجازت ہوگی جس قدررقم اپنی تنخواہ میں سے انشورنس کی مدمیں جمع کروائی ہو،اس سے زائدرقم کی طبی سہولیات سےفائدہ اُٹھانے سے اجتناب لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ 278 فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ 279 ﵞ( البقرۃ )-
وفی سنن أبي داود: عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع الغرر.»(باب فی بیع الغرر،ج: 3، ص: 263، ناشر:المطبعۃ الأنصاریۃ)-
وفی المبسوط للسرخسي: لأن الهبة عقد تبرع، فإذا رجع في الأصل بقيت الزيادة للموهوب له بغير عوض، وقد كان الأصل سالما بغير عوض فيجوز أن تسلم الزيادة له أيضا بغير عوض اھ(باب المھور،ج:5، ص: 73، ناشر:دار المعرفۃ)-
وفی الھدایۃ: الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول اھ ( کتاب الھبۃ، ج3، ص: 222، ناشر: دار احیاء التراث العربی )-
وفی الدر المختار: وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا اھ
وفی رد المحتارتحت (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة اھ(فصل فی البیع،ج:6، ص: 403، ناشر: سعید)-
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0