انشورنس یا بیمہ پالیسی

کمپنی کی طرف سے انشورنس کی صورت میں اس سے فائدہ اٹھانے کا حکم

فتوی نمبر :
88434
| تاریخ :
2025-10-29
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / انشورنس یا بیمہ پالیسی

کمپنی کی طرف سے انشورنس کی صورت میں اس سے فائدہ اٹھانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک کمپنی میں جاب کرتا ہوں جو اپنے ایمپلائی کو سیلف انشورنس اور پیرنٹس انشورنس کی فیسلیٹی دیتی ہے، اس میں ہوتا یہ ہے کہ کمپنی کسی بھی انشورنس کمپنی سے کنٹریکٹ کرتی ہے اور ہمیں ایک کارڈ دیا جاتا ہے، جو کسی بھی میڈیکیشن کے اگینسٹ پر سلیکٹڈ ہسپتالوں میں اسے یوزکیا جاسکتا ہے ،جیسے کہ اسکی حد ہوتی ہے، جیسے کہ 500,000 تک اگر اسکے اندر خرچہ ہو تو وہ انشورنس کمپنی دیگی اور ہماری سیلری سے اس سلسلے میں کچھ بھی ڈیڈکشن نہیں ہوتی ۔
اب ایک دوسری پالیسی ہے جس میں پیرنٹس انشورنس آفر کی جاتی ہے اور سب سے پوچھا جاتا ہے کہ اگر کوئی کروانا چاہے تو مرضی ہوتی ہے ،اگر کوئی ایمپلائی ایگری کرتا ہے تو سیلری سے ایک اسپیسیفک اماؤنٹ ڈیڈکٹ ہوتی ہے اور اسکے بدلے میں ویسا ہی کارڈ مِل جاتا ہے جیسے کہ ایمپلائی کے کیس میں ملتا ہے کہ ایک خاص رقم تک اس سے علاج کرایا جاسکتا ہے جو انشورنس کمپنی کے ذمے ہوگی۔اور اگر حالات بھی تھوڑے مشکل ہوں پھر بھی جواب ایسا ہی رہےگا ؟ براہِ مہربانی اس بارے میں وضاحت کریں کہ کیا حکم ہے ؟تاکہ کسی بھی گناہ سے بچ سکیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگرکمپنی سیلف انشورنس اسکیم کے تحت اپنے ملازمین کوطبی سہولیات فراہم کرنے کے عوض ان کی تنخواہ سے کسی قسم کی کٹوتی نہ کرتی ہو تو ایسی صورت میں ملازمین کے لیے مذکورہ سہولت سے فائدہ اُٹھانے کی گنجائش ہے، اوریہ سہولت ملازمین کے حق میں کمپنی کی طرف سے تبرّع اور احسان شمارہوگی البتہ چونکہ مروّجہ انشورنس کمپنیوں کا طریقہ کار سود اور جوئے کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، اس لئے کمپنی انتظامیہ انشورنس کمپنی کے ساتھ اس قسم کا معاہدہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہو گی۔
جبکہ سائل کی ذکرکردہ پیرنٹس انشورنس اسکیم میں باقاعدہ ملازم کو اپنی مرضی و اختیارسے ایک مخصوص رقم اپنی تنخواہ سےماہانہ پریمیم کے طورپر کٹوانے کامعاہدہ کرناپڑتاہے،اورمذکورمعاہدہ چونکہ سودوقمار اور غررپرمشتمل ہوتاہے ،لہذااس قسم کا معاہدہ کرنے سے احتراز چاہئیے ، لیکن اگرکسی نے لاعلمی میں ایسامعاہدہ کرلیاہو توایسی صورت میں انشورنس کمپنی کے کارڈپرصرف اسی قدررقم سے علاج معالجہ کروانےکی اجازت ہوگی جس قدررقم اپنی تنخواہ میں سے انشورنس کی مدمیں جمع کروائی ہو،اس سے زائدرقم کی طبی سہولیات سےفائدہ اُٹھانے سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ: ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ 278 فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَا تُظۡلَمُونَ 279 ﵞ( البقرۃ )-
وفی سنن أبي داود: عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه وسلم «‌نهى ‌عن ‌بيع ‌الغرر.»(باب فی بیع الغرر،ج: 3، ص: 263، ناشر:المطبعۃ الأنصاریۃ)-
وفی المبسوط للسرخسي: لأن الهبة عقد ‌تبرع، فإذا رجع في الأصل بقيت الزيادة للموهوب له بغير عوض، وقد كان الأصل سالما بغير عوض فيجوز أن تسلم الزيادة له أيضا بغير عوض اھ(باب المھور،ج:5، ص: 73، ناشر:دار المعرفۃ)-
وفی الھدایۃ: ‌الهبة ‌عقد ‌مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام: "تهادوا تحابوا" وعلى ذلك انعقد الإجماع "وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول اھ ( کتاب الھبۃ، ج3، ص: 222، ناشر: دار احیاء التراث العربی )-
وفی الدر المختار: وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا اھ
وفی رد المحتارتحت (قوله لأنه يصير قمارا) لأن ‌القمار ‌من ‌القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة اھ(فصل فی البیع،ج:6، ص: 403، ناشر: سعید)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد جمعہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88434کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا انشورنس جائز ہے ؟کیا مفتی تقی عثمانی صاحب کی انشورنس کمپنی ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   انشورنس یا بیمہ پالیسی 7
  • میزان بینک کا کفالہ اور سیونگ اکاؤنٹ کا حکم،معاون یا مہمان کا مدرسہ کا کھانا کھانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • بیرون ملک میں کئے گئے انشورنس کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • لائف انشورنس کا حکم - انشورنس کروانا کیسا ہے

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 3
  • انشورنس کس بینک سے کروائیں - انشورنس اور تکافل میں فرق

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • میڈیکل انشورنس پالیسی کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   انشورنس یا بیمہ پالیسی 1
  • انشورنس والی گاڑی کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • کمپنی کا ملازمین کیلئے انشورنس پالیسی لینا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • جوبلی تکافل انشورنس میں اپنی گاڑی، بائیک یا لائف تکافل کروانا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • کمپنی-فیکٹری کا ، اپنے ملازمین کیلۓ "صحت بیمہ پالیسی "لینا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • پوسٹل لائف انشورنس کا حکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • کسی مجبوری کی وجہ سے کاروبار کا انشورنس کروانا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • اسٹیٹ لائف انشورنس کی پالیسی لینا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • جرمنی جانے کیلئے مجبوراً ہیلتھ انشورنس کرانا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • پاک قطر فیملی تکافل کی پالیسی لینا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 1
  • انشورنس کے معاملات دیکھنے کی ملازمت کا حکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • کیا بیمہ پالیسی لینا حلال ہے؟

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • اسٹیٹ لائف انشورنس اور پاک قطر تکافل میں فرق ہے؟

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • گاڑی کی وقتاً فوقتاً مرمت کروانے کیلئے ممبر شپ خریدنا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • لائف انشورنس کا حکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • دبئی میں حکومت کا ملازمین پر انشورنس لازم کرنا

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • پاک قطر فیملی تکافل کا طریقہ کار اور اسکی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • داؤد فیملی تکافل میں حصہ لینے کاحکم

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
  • تکافل فیملی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   انشورنس یا بیمہ پالیسی 0
Related Topics متعلقه موضوعات