اسٹیٹ لائف انشورنس کا تکافل پلان جائز ہے یا ناجائز ہے؟
جوتکافل کمپنی مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں شرعی اصول و ضوابط کے مطابق کام کررہی ہو ، تو اس کی جو پالیساں شرعی ضابطوں کے مطابق ہوں ، انھیں لینے کی گنجائش ہے ۔لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر اسٹیٹ لائف انشورنس کے تکافل پلان کا مکمل طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق ہو اور ان کے تمام ترمعاملات مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کے زیرنگرانی انجام پاتے ہوں ، توایسے تکافل کمپنیوں کا پلان لینا شرعاًجائز اور درست ہوگا ، ورنہ نہیں۔
قال اللہ تعالیٰ(احل اللہ البیع و حرم الربٰوا ) الآیۃ (پارہ 3، ایت نمبر 275 )۔
کما فی احکام القرآن للجصاصؒ: تحت قولہ تعالٰی (وحرم الربا) فانتظم قوله تعالى وحرم الربا تحريم جميعها لشمول الاسم عليها من طريق الشرع الخ (ومن أبواب الربا الشرعي السلم في الحيوان،ج 2، ص 188، ایت نمبر 274،ط:قدیمی)۔
وفیہ ایضًا: تحت قولہ تعالٰی (یسئلونک عن الخمر والمیسر، قل فیھما اثم کبیر) قال أبو بكر دلالته (الی قولہ) وقال ابن عباس وقتادة ومعاوية بن صالح وعطاء وطاوس ومجاهد الميسر القمار (الی قولہ) ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار قال ابن عباس إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال والزوجة وقد كان ذلك مباحا إلى أن ورد تحريمه الخ(باب تحريم الميسر،ج 2،ص 10،ایت نمبر 220،ط:قدیمی)۔
وفی صحیح مسلم: عن جابر قال: لعن رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ علیہ و سلم آكل الربا و موكله و كاتبه و شاهديه ، و قال ھم سواء الخ (کتاب البیوع ، ج: 3 ، ص: 1219 ، ط: دار احیاء التراث العربی)ـ
وفی کنز العمال : عن ابن عباس قال : لاتشارک یھودیا و لا نصرانیا، و لا مجوسیا، قیل : و لم؟ قال : لأنھم یربون و الربا لا یحل ( باب فی الربا و احکامہ، ج 4، ص 193، ط:مؤسسۃ الرسالۃ )۔
وفی الدر المختار: وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه.وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحرالخ (مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج 5،ص166،ط:سعید)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0