کیا ملازمت کرتے ہوئے ، کمپنی کو مارکیٹ سے کم نرخ پر سامان دلوانے کے بعد، وینڈر (فروخت کنندہ) سے کمیشن لے سکتے ہیں؟ جبکہ کمپنی کا کام مارکیٹ سے کم ریٹ پر کیا گیا ہے؟اگر فروخت کنندہ اپنی خوشی سے پیسے دے، تو کیا لینا جائز ہوگا؟
ملازم جب کمپنی کی طرف سے خریداری کرتا ہے تو وہ شرعاً وکیل کے حکم میں ہوتا ہے، چنانچہ وکیل کواس معاملہ سے حاصل ہونے والا ہر مالی فائدہ شرعاًموکل (کمپنی) ہی کا حق سمجھاجائےگا۔ لہذااگر فروخت کنندہ وکیل کو قیمت میں کچھ کمی دے یا فروخت کنندہ وکیل کوذاتی طور پر کچھ ہبہ کرے،مگر وہ اسی معاملہ کی وجہ سے ہو تو اس کا تعلق بھی موکل کے حق سے ہوگا ، کیونکہ یہ کمی اصل عقد کے ساتھ ملحق ہو کر ثمن کا حصہ بن جاتی ہے۔ لہٰذا کمپنی کا ملازم ہوکر اس کی اجازت کے بغیر وینڈر سے کمیشن یا مالی فائدہ لینا جائز نہیں،جس سے احترازچاہیے ۔
کما فی الشامیۃ: مطلب فی أجرۃ الدلال: و فی الحاوی سئل عن محمد بن سلمۃ عن أجرۃ السمسار، فقال: أرجو أنہ لا بأس بہ و إن کان فی الأصل فاسدا لکثرۃ التعامل و کثیر من ھذا غیر جائز، فجوزہ لحاجۃ الناس الیہ کدخول الحمام الخ (باب الاجارۃ الفاسدۃ،ج 6، ص 63، ط: ایچ ایم سعید )۔
وفیھا ایضاً: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية قوله (فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا لأنه لا وجه له الخ ( کتاب البیوع ،ج:4،ص:560، ط :سعید)۔
وفی فقه الاسلامی وادلته: تصح الوكالة بأجر، وبغير أجر، لأن النبي صلّى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات، ويجعل لهم عمولة. فإذا تمت الوكالة بأجر، لزم العقد، ويكون للوكيل حكم الأجير الخ( کتاب الاجارۃ،ج 4،ص 2997، ط: دار الفکر)۔