آج کل قرآنِ کریم کے کئی اُردو تراجم موجود ہیں، لیکن ان میں سب سے زیادہ آسان اور عام فہم ترجمہ مفتی تقی عثمانی صاحب کا ’’آسان ترجمہ قرآن‘‘ ہے، جسے ہر شخص با آسانی پڑھ اور سمجھ سکتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا مسجد میں اجتماعی طور پر ’’آسان ترجمہ قرآن‘‘ کے ساتھ قرآنِ کریم پڑھنے کا سلسلہ شروع کرنا درست ہوگا تاکہ لوگ براہِ راست سمجھ سکیں کہ قرآن میں کیا لکھا ہے اور اس کا پیغام کیا ہے؟
اجتماعی طورپر"آسان ترجمہ قرآن "پؑڑھنے سے سائل کی مرادکیاہے ،یہ واضح نہیں ،تاہم اگرسائل کی مرادہے یہ ہوکہ ایک شخص ترجمہ قرآن پڑھے گااورباقی سماعت کریں گے،بلاشبہہ یہ درست اورایساکرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،البتہ امام مسجدیا کسی عالم دین سے درخواست کرکے مسجدمیں باقاعدہ درس قرآن کااہتمام کرلیاجائے تویہ زیادہ بہترہے۔