میرے والد ریڈیالوجسٹ ہیں، مرد و عورت دونوں کا علاج کرتے ہیں لیکن خواتین زیادہ آتی ہیں۔ خواتین کے معائنہ کے وقت ایک نرس کمرے میں موجود ہوتی ہے، جسمانی رابطہ نہیں ہوتا اور کوئی ناجائز خیال نہیں ہوتا۔ قریبی کلینکس میں لیڈی ڈاکٹرز بھی موجود ہوتی ہیں۔ اس صورت میں والد کی آمدنی کا کیا حکم ہے اور بیٹے کو کیا کرنا چاہیے؟
اصل قاعدہ یہ ہے کہ عورت کا علاج عورت ہی کرے، اور مرد کا علاج مرد کرے۔ لیکن اگر ماہر خاتون ڈاکٹر دستیاب نہ ہو یا علاج کے لیے مرد کا سہارا لینا ضروری ہو تو شرعاً اجازت ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ پردہ و ستر کی پابندی کی جائے، غیر ضروری اختلاط نہ ہو اور ناجائز لمس یا خلوت (اکیلے پن) کی صورت نہ بنے۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل کے والد کے پاس معائنے کے وقت نرس موجود رہتی ہے، خلوت نہیں پائی جاتی، جسمانی لمس بھی نہیں ہوتا اور نیت بھی درست ہے، لہٰذا ان کی کمائی حلال اور جائز ہے۔ تاہم چونکہ علاقے میں خواتین ڈاکٹرز بھی موجود ہیں، اس لیےاحتیاط کاتقاضااسی میں ہے کہ خواتین حتی الامکان معالجہ کے لیے خواتین ڈاکٹر ہی کے پاس رجوع کریں، تاکہ زیادہ سے زیادہ شرعی حدود کی پاسداری ممکن ہوسکے۔
جبکہ سائل کے والد کی کمائی چونکہ فی نفسہ جائزاورحلال ہے،لہذا اس آمدنی سے اجتناب ضروری نہیں۔ البتہ اسے چاہیے کہ والد کی حکمت و نرمی کے ساتھ اس بات کی ترغیب دے کہ خواتین کے علاج میں زیادہ سے زیادہ احتیاط برتیں اور حتی الامکان مریضہ کی لیڈی ڈاکٹر کی طرف رہنمائی کریں۔
کما فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : ويجوز النظر إلى الفرج للخاتن وللقابلة وللطبيب عند المعالجة ويغض بصره ما استطاع، كذا في السراجية.(وبعدأسطر) امرأة أصابتها قرحة في موضع لا يحل للرجل أن ينظر إليه لا يحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، ولا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهن؛ لأن النظر إلى العورة لا يحل بسبب المحرمية، كذا في فتاوى قاضي خان. (5/ 330)
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري : والطبيب إنما يجوز له ذلك إذا لم يوجد امرأة طبيبة فلو وجدت فلا يجوز له أن ينظر لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف وينبغي للطبيب أن يعلم امرأة إن أمكن وإن لم يمكن ستر كل عضو منها سوى موضع الوجع ثم ينظر ويغض ببصره عن غير ذلك الموضع إن استطاع لأن ما ثبت للضرورة يتقدر بقدرها وإذا أراد أن يتزوج امرأة فلا بأس أن ينظر إليها وإن خاف أن يشتهي(8/ 218)