کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا کچی آبادی میں گھر لینا جائز ہے؟ یعنی جن کو حکومت نے لیز نہ کیا ہو، میں نے اپنے کاروباری کام کے لئے ایک مکان کچی آبادی میں کرائے پر لیا ہوا ہے ،تو کیا اس مکان میں کام کرنا اور پھر اس میں سے ملنےوالا نفع ہمارےلئے جائز ہے یانہیں؟ جبکہ وہ مکان بھی لیز نہیں ہے۔ شریعت کی روشنی میں وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
کچی آبادی میں مالک مکان سے مکان کرایہ پر لیکر اس میں کوئی جائز کاروبار سرانجام دیناشرعاً جائز اور اس سے حاصل ہونے والا نفع اور کمائی بھی حلال ہے ، اسے استعمال کر سکتے ہیں۔
كما في تفسير السعدي:تيسير الكريم الرحمن: قوله تعالى: {وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} كالتعليل لذلك، والإلقاء باليد إلى التهلكة يرجع إلى أمرين: ترك ما أمر به العبد، إذا كان تركه موجبا أو مقاربا لهلاك البدن أو الروح، وفعل ما هو سبب موصل إلى تلف النفس أو الروح، فيدخل تحت ذلك أمور كثيرة، فمن ذلك، ترك الجهاد في سبيل الله، أو النفقة فيه، الموجب لتسلط الأعداء، ومن ذلك تغرير الإنسان بنفسه في مقاتلة أو سفر مخوف، أو محل مسبعة أو حيات، أو يصعد شجرا أو بنيانا خطرا، أو يدخل تحت شيء فيه خطر ونحو ذلك، فهذا ونحوه، ممن ألقى بيده إلى التهلكة. (ص: 90)۔
وفى الدر المختار : وكل أنواع الكسب في الإباحة سواء على المذهب الصحيح كما في البزازية وغيرها (6/ 462)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك اھ (6/ 462)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0