کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب نکاح ختم ہو جاتا ہے تو لڑکی اور لڑکے کے گھروالوں کی مائیں لڑکے کے گھر والوں کے مابین اشیاء کے لین دین کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور کون سی اشیاء قابل واپسی ہوتی ہیں اور کون سی ناقابل واپسی، کیونکہ ہمیں نکاح ختم ہونے کے بعد لڑکے والوں کی جانب سے کچھ اشیاء کی ڈیمانڈ کی گئی ہیں، جس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔
ا۔ شوہر جو اپنی بیوی کو خرچ کے پیسے دیتا تھا وہ واپس کئے جائیں۔
۲۔ شوہر نے جو تحفے تحائف اپنی بیوی کو دیئے وہ واپس کئے جائیں۔
۳۔ شوہر نے جو سونے کا سیٹ اور کنگن دیئے وہ واپس کئے جائیں۔ ۴
۔ شوہر ، یعنی لڑکے کے گھر والوں نے جو گفٹ دیئے وہ واپس کئے جائیں۔
۵۔ غرض تمام گفٹ جس صورت میں دیئے سب واپس کریں۔
۶۔ لڑکی والوں کی طرف سے کن چیزوں کو واپس لینے کا شرعی حکم ہے، کیا لڑکی والوں نے جو جہیز اپنی بیٹی کو رخصتی پر دیا تھا کیا وہ تمام اشیاء قابل واپسی ہوتی ہیں اور جو انگوٹھی، گھڑیاں اور کپڑوں کے پیسے جو لڑکے کو دیے گئے کیا وہ تمام اشیاء بھی واپس ہوتی ہیں۔
۷۔ لڑکی جب تک عدت میں موجود ہو، اس کے اخراجات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور اس کے خرچ کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے۔
۸۔ برائے کرم شریعت کی رو سے جو بہترین لین دین کا طریقہ ہے اس سے آگاہ کیا جائے، مزید یہ کہ نکاح جب لڑکے والوں کی جانب سے ختم کیا جاتا ہے تو لڑکی والوں پر کون سی کنڈیشن عائد ہوتی ہے؟
(۱) واضح ہو کہ شوہر کی طرف سے جو چیزیں بیوی کو فقط استعمال کے لئے دی جاتی ہیں اسے باقاعدہ ان کا مالک نہیں بنایا جاتا تو ایسی چیزیں شوہر کی ملکیت ہوتی ہیں اور علیحدگی کی صورت میں اسے وہ اشیاء واپس لینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، البتہ جو اشیاء بطور نان و نفقہ یا بطور گفٹ مالکانہ قبضہ کے ساتھ بیوی کو دی جاتی ہیں تو علیحدگی کی صورت میں شوہر کے لئے ان اشیاء کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں شوہر نے نکاح کے بعد بیوی کو خرچ واخراجات کے لئے جو رقم دی تھی یا جو تحفے تحائف با قاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ دیئے تھے یا بیوی کی طرف سے شوہر کو جو چیزیں بطور گفٹ مالکانہ قبضے کے ساتھ دی گئیں تو اب دونوں کے لئے ایک دوسرے سے ان چیزوں کی واپسی کا مطالبہ کر ناشر عا درست نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، البتہ شوہر نے جو سونے کا سیٹ اور کنگن دیئے تھے اگر وہ بطور عاریت فقط استعمال کے لئے دیئے ہوں بطور گفٹ نہ دیئے ہوں یا عرف میں مذکور چیزیں شوہر کی طرف سے بیوی کو محض استعمال کے لئے عاریتاً دی جاتی ہوں تو اب وہ ان کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
(۲) شوہر کے گھر والوں نے لڑکی کو اور بیوی کے گھر والوں نے شوہر کو جو تحفے تحائف باضابطہ مالکانہ قبضے کے ساتھ دیئے تھے تو یہ ان کی ملکیت بن چکے ہیں، اب ان کی واپسی اگر چہ باہمی رضامندی سے یا عدالتی فیصلے کی بناء پر معتبر ہوگی، تاہم بطور گفٹ دی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ شرعا واخلاقا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے ، لہذا اس سے دونوں فریقین کو احتر از لازم ہے۔
(۳) شادی کے موقعے پر والدین نے اپنی بیٹی کو جو جہیز کا سامان بطور ہبہ اور گفٹ دیا تھا تو وہ صرف لڑکی کی ملک ہے ، لہذا طلاق ہو جانے کے بعد شوہر یا اس کے گھر والوں کو اس جہیز کے سامان کو روکنے کا شرعا کوئی حق حاصل نہیں، جبکہ ایام عدت کا خرچہ شوہر پر لازم ہے اور نفقہ کی مقدار کا تعین باہمی رضامندی سے طے کیا جا سکتا ہے۔
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): فإن كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها ولا يختص بشيء منه اھ (3/ 585)
و في الدر المختار: (جهز ابنته ثم ادعى أن ما دفعه لها عارية وقالت هو تمليك أو قال الزوج ذلك بعد موتها ليرث منه وقال الأب) أو ورثته بعد موته (عارية ف) المعتمد أن (القول للزوج ولها إذا كان العرف مستمرا أن الأب يدفع مثله جهازا لا عارية) (3/ 156)
و في الفتاوى الهندية: الرجوع في الهبة مكروه في الأحوال كلها ويصح كذا في التتارخانية اھ (4/ 385)
وفيھا أیضاً: ومنها الزوجية سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا كذا في الاختيار شرح المختار وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة وإن انقطع النكاح بينهما ولو وهب لأجنبية ثم تزوجها أو وهبت لأجنبي ثم زوجت نفسها منه كان للواهب أن يرجع في الهبة لأن النكاح بعد الهبة لا يمنع الرجوع كذا في فتاوى قاضي خان اھ (4/ 386)
وفيھا أیضاً: المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا أو ثلاثا حاملا كانت المرأة أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/ 557)