السلام علیکم !
میرا تعلق اہلسنت والجماعت دیوبندی سے ہےالحمدللہ،عنقریب میری شادی ہونے والی ہے، میرا سوال تھوڑا ساحیاء کے خلاف ہے،لیکن میرے لئے کافی ضروری ہے،میرا سوال یہ ہےکہ کیا میاں بیوی شادی کے بعد ایک دوسرے کی شرمگاہ چوم سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟حالانکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ تمہاری بیوی تمہاری کھیتی ہے ،اللہ تعالی کمی بیشی کومعاف فرمائے ، ذرا تفصیل سے وضاحت فرمائیں ،اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ،اور دنیا اور آخرت میں کامیابی عطاء فرمائے ،والسلام!
واضح ہو کہ شریعتِ مطہّرہ نے میاں بیوی کے لئے جماع کےبھی آداب بیان فرمائے ہیں ، مثلاً: بقدر ضرورت ستر کھولا جائے، جماع کے وقت شرمگاہ پر نظر نہ ڈالی جائے، اور جماع کرتے وقت میاں بیوی بالکل بے لباس ہو کر جانوروں کی طرح ننگا جماع نہ کریں، لہذا جماع کرتے وقت میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو چومنا، زبان لگانا، یا اپنی شرمگاہ کو بیوی کے منہ میں داخل کرکےاپنی خواہشات نفسانی پورا کرنا طبعِ سلیم کے خلاف ہونے کی وجہ سے انتہائی ناپسندیدہ اور بے حیائی والا عمل ہے ،بلکہ بسا اوقات زبان پر نجاست لگنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی سنن ابن ماجہ:"عن عتبة بن عبداللہ السلمي، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أتى أحدكم أهله فليستتر، ولا يتجرد تجرد البعير»."(1/418)۔
وفی المحیط البرھانی:"إذا أدخل الرجل ذكره فم أمرأته فقد قيل: يكره؛ لأنه موضع قراءة القرآن، فلا يليق به إدخال الذكر فيه، وقد قيل بخلافه."(کتاب الاستحسان و الکراهیة ، 5/408 دارالکتب العلمیة ، بیروت ۔ لبنان)۔
وفي الفتاوى الهندية: في النوازل إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة. (5/ 372)۔