کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں پہلے کیماڑی میں بحری جہازوں کے لئے نیا اڈا بن رہا تھا اس میں اندر سے زائد مٹی کچرا وغیرہ ڈمپر کے ذریعے باہر نکالنے کی خدمات سر انجام دے رہا تھا اور اسی دوران میں نے اندر سے کچھ کباڑ وغیرہ جو تقریباً ایک لاکھ روپے لاگت کا ہوگا ، نکالا ہے اور ابھی کام ختم ہونے کی وجہ سے ان مالکان کو معلوم کرنا مشکل ہے اور ابھی میں معاشی مصائب کے ساتھ ساتھ دینی کمزوری بھی محسوس کر رہا ہوں ۔ جبکہ میرا ایک ٹرک بھی ہے، لیکن مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے وہ بیکار ہے اور پہلے میں اپنے رب العزب جو کچھ مانگتا تھا وہ عطاء کرتے تھے لیکن ابھی مجھے اپنے رب سے دوری محسوس ہو رہی ہے ۔ لیکن ابھی معاشی کمزوری کی وجہ سے وہ رقم میں ادا نہیں کر سکتا۔ تو ایسی صورتحال میں میرے لئے کیا حکم ہے؟ اور مجھے کوئی ایسا راستہ بتائیں کہ جس سے میری دینی اور معاشی کمزوریاں ختم ہو جائیں ۔
چوری کے گناہ کی نحوست اور اس کے عذاب سے چھٹکارے کا طریقہ یہی ہے کہ جس کا مال چوری کیا گیا ہے اُسے وہی مال واپس کیا جائے اور مال موجود نہ ہونے کی صورت میں اس کی قیمت دیدی جائے یا پھر اسے بتا کر اس سے معافی مانگ لی جائے اور وہ بخوشی معاف بھی کر دے، اس لئے اب سائل کو بھی یہی چاہیئے کہ وہ اس شخص کو تلاش کرے جس کی چوری کی ہے پھر اس کیساتھ معاملات طے کر کے اُسے اس مال کی قیمت ادا کرے اور قیمت نہ ہونے کی صورت میں اس سے معذرت کر کے باقاعدہ معاف کروا لے، محض حیلے بہانے کر کے دوسرے کے مال کو اپنے لئے حلال سمجھنے سے اجتناب کرے اور اصل مالک کو تلاش کرنے اور اس کے ساتھ ملنے کی کوشش کرے۔
ففي رياض الصالحين؛ وإن كانت المعصية تتعلق بآدمي فشروطها أربعة: هذه الثلاثة، وأن يبرأ من حق صاحبها، فإن كانت مالا أو نحوه رده إليه، وإن كانت حد قذف ونحوه مكنه منه أو طلب عفوه، وإن كانت غيبة استحله منها اھ (ص: 14)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله ويجب رد عين المغصوب) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «على اليد ما أخذت حتى ترد» ولقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا يحل لأحدكم أن يأخذ مال أخيه لاعبا ولا جادا، وإن أخذه فليرده عليه» زيلعي، وظاهره أن رد العين هو الواجب الأصلي، وهو الصحيح كما سيذكره الشارح وسنوضحه (قوله ما لم يتغير تغيرا فاحشا) سيأتي تفسيره بأنه ما فوت بعض العين وبعض نفعه، وإنه حينئذ يتسلم الغاصب العين ويدفع قيمتها، أو يدفعها ويضمن نقصانها والخيار في ذلك للمالك اھ (6/ 182)۔