السلام علیکم!
(۱) مکروہ تحریمی اور حرام میں کیا فرق ہے؟ اور ایک دوسرے کے کتنے قریب ہیں؟
(۲) جھینگا ، کیکٹرا اور کچھوے کی کیا حیثیت ہے؟ تفصیل سے بیان کریں۔ میرے خیال میں جھینگا مولانا لدھیانوی کی کتاب میں مکروہِ تحریمی ہیں۔
۱۔ حرام اس فعل ممنوع کو کہا جاتا ہے، جس کی حرمت نصِ قطعی سے ثابت ہو، جبکہ مکروہِ تحریمی وہ جس کی ممانعت خبر واحد سے یعنی وہ ظنی الثبوت یا ظنی الدلالۃ ہوتا ہے۔ باعتبارِ حرمت کے ان کے سرحدیں قریب قریب ہیں، اس لئے عام اصطلاحات میں مکروہ تحریمی پر حرام کا اطلاق بھی کیا جاتا ہے۔
(۲) کیکڑا اور کچھوا دونوں حرام ہیں۔ البتہ جھینگے کی حلت اور حرمت میں علماء کا اختلاف ہے، اس لئے جھینگا کھانے سے احتراز زیادہ بہتر اور مناسب ہے۔
کمافی الشامیۃ: (قوله: ومكروهه) هو ضد المحبوب؛ قد يطلق على الحرام كقول القدوري في مختصره وعلى المكروه تحريما: وهو ما كان إلى الحرام أقرب، ويسميه محمد حراما ظنيا.وذكر أنه في رتبة الواجب لا يثبت إلا بما يثبت به الواجب يعني بالظني الثبوت.اھ(1/131)۔
وفی الھدایۃ: ولایؤکل من حیوان الماء الا السمك ولنا قولہ تعالیٰ: ویحرم علیھم الخبائث وما سوی السمك خبیث ونھیٰ رسول اللہ ﷺ عن بیع السرطان اھ(4/442)۔
پروندوں کی خوراک کے کیڑے (Meat Warm)کوپالنے اور کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت
یونیکوڈ حلال و حرام جانور 0