کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ ہمارے علاقے میں لوگ ظہر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ کر دو رکعت سنت پڑھنے کے بعد لوگ اجتماعی دعاءکرتے ہیں، یعنی کہ لوگ امام کی انتظار میں بیٹھتے ہیں کہ امام صاحب کب دعا شروع کرے، اور اجتماعی دعاء کرتے ہیں، اور مغرب کی نماز کے بعد بھی اسی طرح کرتے ہیں، جیسے ظہر میں اور عشاء میں بھی وتر پڑھنے کے بعد بھی اسی طرح سے دعا پڑھتے ہیں، اور رمضان میں بھی وتر پڑھنے کے بعد امام (سورۃ الملک) بلند آواز سے پڑھتے ہیں، پھر سب مع امام کے اجتماعی دعاء کرتے ہیں کیا یہ دعاء رسم جائز ہے یا نہیں؟ آیا یہ بدعت نہیں ہے؟ تو حدیث واضح کریں ، کوئی ایسی کتاب کا نام لکھیں جو اس قسم کے مسئلہ کے بارے میں ہو قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب سے نوازیں۔ آپ کی عین زندگی ہو گی۔
سنن و نوافل کے بعد انفرادی طور پر دعا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاشبہ ثابت ہے، اور یہی مسنون بھی ہے، مگر اجتماعی طور پر دعا کرنا اور وہ بھی امام کی اقتداء میں اور علی سبیل الالتزام کرنا اس کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر یعنی دورِ صحابہ و تابعین اور تبعِ تابعین سے کوئی ثبوت نہیں، جس کی وجہ سے یہ بدعت کے زمرے میں آتا ہے، اس لئے اس سے اجتناب اور انفرادی طور پر دعا کے ذریعہ اتّباعِ سنت کا اہتمام لازم ہے، جبکہ مذکور صورت اگر سائل کے علاقہ میں واقعۃً مروّج ہو تو فساد سے بچتے ہوئے پوری حکمت کے ساتھ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔
ففی مشكاة المصابيح: عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد»(متفق عليه) (1/ 51)۔
و في مشكاة المصابيح: وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة» . رواه مسلم(1/ 51)۔
و في صحيح مسلم: عن عبد الله بن شقيق، قال: سألت عائشة عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن تطوعه؟ فقالت: «كان يصلي في بيتي قبل الظهر أربعا، ثم يخرج فيصلي بالناس، ثم يدخل فيصلي ركعتين، وكان يصلي بالناس المغرب، ثم يدخل فيصلي ركعتين، ويصلي بالناس العشاء، ويدخل بيتي فيصلي ركعتين، وكان يصلي من الليل تسع ركعات فيهن الوتر اھ (1/ 504) ۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1