بخدمت جناب مفتیانِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل ایک کاروبار چلا ہوا ہے گولڈ مائن انٹرنیشنل کے نام سے اور یہ سونے وغیرہ کی کمپنی ہے یورپ ممالک کی۔
کاروبار کی تفصیل یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کام میں شامل ہونے کے لیے ساٹھ 60 ڈالر دینے پڑتے ہیں جو پاکستانی تقریباً چار ہزار چھ سویا آٹھ سو روپے بن جاتے ہیں اور پھر آپ کو دو آپشنز دیے جاتے ہیں (ایک بات یہ ہے کہ یہ کاروبارکمپیوٹر کے ذریعہ سے کیا جاتا ہے ) ایک رائٹ اور دوسرا لیفٹ, اب ان دونوں اطراف میں سے اگر آپ کسی بندے کو شامل کر لیں یعنی رائٹ میں سے بھی کسی ایک شخص کو اور لیفٹ میں سے بھی کسی ایک شخص کو یعنی ان کو اس کام میں شامل کر لیں تو ان کے شامل ہونے کے لئے بھی یہی ساٹھ 60 ڈالرز ہیں ۔ اور ان دونوں کو شامل کرنے پر شامل کرنے والے کے لئے ایک شخص کی بجائے تین کے ڈالرز ملیں گے ، اور مزید تفصیل یہ ہے کہ جب آپکے اکاونٹ میں 300 ڈالرز ہو جائیں تو آپ کو اس کمپنی کی کوئی چیز خریدنی ہوگی ( وہ چیز مثلا گھڑی ، یا سونے کے کنگن وغیر ذالک) اور ان 300 سو کے علاوہ جب آپ کے اکاونٹ میں 500 ڈالرز ہو جائیں تو آپ اس کو کیش کرواسکتے ہیں وہ بھی بذریعہ کمپیوٹر یعنی آپ کے اکاونٹ میں وہ رقم آ جائے گی، پھر جب آپ چاہیں وہ نکلوا سکتے ہیں ۔ اب اس کے جواز اور عدم جواز کی تفصیل اور وضاحت فرمائیں قرآن اور احادیث کی روشنی میں , کچھ عوام کا کہنا ہے کہ کئی حضرات نے اس کے جواز کا فتوی دیا ہے ، اب آپ حضرات اس کی تفصیل اور وضاحت فرمائیں کہ آیا یہ کاروبار جائز اور مباح ہے یا نہیں؟
سوال میں تحریر کردہ ’’ گولڈ مائن انٹرنیشنل ‘‘کے طریقہ کار پر غور کیا گیا، آج کل اس نوعیت کا کاروبار کرنے والی بہت سی ایسی کمپنیاں آئی ہیں جو کم قیمت کی چیز مہنگے دام فروخت کرتی ہیں اور ساتھ ساتھ آگے ممبر بنا کر اس پر کمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہیں، لوگ کمیشن کے لالچ میں آکر کم قیمت کی چیز مہنگے دام خرید لیتے ہیں جو شرعاً ’’ قمار‘‘ یعنی جوئے کی ہی ایک شکل ہے۔
چنانچہ ’’ گولڈ مائن انٹرنیشنل ‘کمپنی کی مصنوعات اگر عام بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کی جاتی ہیں تو یہ کاروبار بھی نا جائز ہے اور اس کے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کمپنی کی مصنوعات مارکیٹ میں نہیں ہیں تو اس چیز کو عام مارکیٹ میں فروخت کرے، لوگ جس قیمت پر خریدنے کے لئے تیار ہیں تو اس کی قیمت بازاری قیمت کے برابر ہے، اور اگر اس قیمت پر لوگ خریدنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو یہ علامت ہے کہ اس کی قیمت بازاری قیمت سے زیادہ ہے اور زیادہ قیمت داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ اگر یہ شخص ممبر بنانے میں کامیاب ہو گیا تو ٹھیک ہے اور اگر ممبر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو اس صورت میں اس کی زائد رقم ڈوب جائیگی۔ لیکن اگر کمپنی کی مصنوعات کی قیمتیں عام بازاری قیمت کے برابر ہوں یا بہت معمولی فرق ہو تو بھی اس کمپنی کے طریقہ کار میں درجِ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:
۱۔ یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ کمپنی کا اصل مقصد کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کرنا ہی ہوتا ہے۔ محض حیلہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اگر کوئی شخص ممبر بنے بغیر اس کمپنی کی مصنوعات خریدنا چاہے اور اس زنجیر میں شامل نہ ہوتو کمپنی اس کو یہ مصنوعات فروخت نہیں کرتی ۔
۲۔ کسی شخص کا کمپنی کے طریقہ کار میں کمیشن کا حقدار بننے کے لئے دونوں طرف ممبر بنانا شرط ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ایک طرف ممبر بنائے اور دوسری طرف ممبر نہ بنائے یا مطلوبہ تعداد سے کم بنائے تو اس کو اس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا ,شرعی اعتبار سے یہ شرط لگانا جائز نہیں، کیونکہ اس میں ایک تو کسی شخص کی محنت بیکار جاتی ہے اور اس کا صلہ اس کو کچھ نہیں ملتا، دوسرا یہ کہ اس صورت میں اس کو ملنے والا کمیشن وجود و عدم کے درمیان معلق ہے گویا اس طرح معاملہ ہوا کہ اگر دونوں طرف ممبر بنائے تو اتنا کمیشن ملے گا اور اگر اس سے کم بنائے تو کچھ بھی کمیشن نہیں ملے گا اور شرعاً یہ درست نہیں ۔ ہاں! اگر یہ ہوتا کہ ایک طرف ممبر بنانے پر کم کمیشن ملے گا اور مطلوبہ تعداد کے مطابق بنانے پر مکمل کمیشن ملے گا تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔ لہذا اس موجودہ طریقہ کار میں جو خرابیاں ہیں ان کے ساتھ اس کاروبار میں شرکت کرنا جائز نہیں، اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ جو لوگ اس طریقہ کار کے مطابق اس کاروبار میں شامل ہیں ان کو چاہئیے کہ اس کاروبار کو چھوڑ دیں اور جو غلطی ہوئی اس پر توبہ و استغفار کریں اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو استعمال کرنے سے اجتناب کریں ۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0