السلام علیکم! میں پاکستانی ہوں ، سعودی عرب میں رہتا ہوں ، مندرجہ ذیل سوالات کے مطابق مجھے صحیح تفصیلات فراہم کریں:
ٹخنوں کے متعلق کوئی حدیث ہے ؟ یعنی کپڑوں کا ٹخنوں سے اوپر پہننا ، خاص طور پر مردوں کے لۓ ضروری ہے ؟ کیا ہمارے ٹخنے جہنم کی آگ سے محفوظ ہیں اگرہم ان کا خیال نہ رکھیں ؟ جیسے کہ نماز کا پڑھنا حرام حالت میں، یا کسی گندی جگہ میں جائز نہیں؟ کیا ڈھکے ہوئے ٹخنوں کے ساتھ نماز کا پڑھنا جائز ہے ؟ اور اس حالت میں نماز ہوگی یا نہیں؟
اگرچہ ٹخنے ڈھکے ہوئے ہونے کی صورت میں بھی نماز بہ کراہت ادا ہو جاتی ہے ، مگر شلوار اور تہبند کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا ، متکبرین کی علامت اور شعار ہے، ایسے شخص کے متعلق جو اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے رکھے ، احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں ، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے شخص کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں دیکھیں گے ، جبکہ ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص اپنی ازار کو ٹخنوں سے نیچے رکھے وہ ٹخنے جہنم میں جائیں گے، لہٰذا انہی احادیث کی بناء پر مردوں کے لۓ نماز اور غیر نماز ، دونوں حالتوں میں ایسی شلوار اور تہبند ٹخنوں سے اوپر رکھنا لازم ہے۔
فی صحيح البخاري : عن أبي هريرة رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : «ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار» اھ (7/ 141)۔
و فی مشكاة المصابيح : و عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : «ما أسفل من الكعبين من الإزار في النار» . رواه البخاري اھ (2/ 1241)۔
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ازار کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ دوزخ میں ڈالا جائےگا‘‘
و فیه أیضا : و عن أبي ذر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : «ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة و لا ينظر إليهم و لا يزكيهم و لهم عذاب أليم» . قال أبو ذر : خابوا و خسروا من هم يا رسول الله؟ قال : «المسبل و المنان و المنفق سلعته بالحلف الكاذب» . رواه مسلم اھ (2/ 850)۔
ترجمہ: حضرت ابوذر ؓ نبی کریمﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ’’تین شخص ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ تو اُن سے (مہربانی و عنایت کا) کلام کرےگا ، نہ (نظرِ رحمت و عنایت سے) ان کی طرف دیکھےگا اور نہ ان کو (گناہوں سے ) پاک کرےگا اور ان تینوں کے لیے درد ناک عذاب ہے ابوذرؓ نے پوچھا کہ ’’یا رسول اللہ‘‘ خیر و بھلائی سے محروم اور نقصان میں رہنے والے وہ کون شخص ہیں آپ نے فرمایا : ایک تو پائنچے لٹکانے والا ، دوسرا احسان جتلانے والا اور تیسرا جھوٹی قسمیں کھا کر اپنی تجارت بڑھانے والا۔
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0