کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ انگلینڈ میں گاڑی کی انشورنس جائز ہے یا نا جائز ؟
۲:میرے چچا کاانگلینڈ میں چاول کا کاروبار ہے، اگر کاروبار میں 9440 پاؤنڈ سے لیکر 41450 پاؤنڈ تک منافع آجائے، تو 20 فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے، اور اگر منافع 14145 پاؤنڈ سے زائد ہو تو 40 فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے ،اور اگر اس کیلئے حکومت کی پالیسی کے مطابق نیشنل انشورنس لیا جائے، تو پھر اس صورت میں اگر منافع 7755 پاؤنڈ سے لیکر 141450 پاؤنڈ تک ہو تو % 9 فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے، اور اگر 41450 پاؤنڈ سے زائد ہو تو 11 فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے، اور ہم کم منافع بتاتے ہیں، ٹیکس سے بچنے کیلئے, براہِ مہربانی شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
برطانیہ کے دارالحرب ہونے کی بناء پر اس قسم کے معاملات کی گنجائش ہے، جبکہ اس میں دفعِ مضرت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے، اس لئے اگر کوئی دوسری جائز صورت موجود نہ ہو تو بامرِ مجبوری اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔
کمافي شرح المجلة : المادة ۲۶: يتحمل الضرر الخاص لدفع الضرر العام هذه المادة مقيدة لما قبلها أى لايزال الضرر بالضرر إلا إذا كان أحدهما عاما والآخر خاصا فيتحمل حينئذ الضرر الخاص لدفع الضرر العام وهذه قاعدة مهمة من قواعد الشرع مبنية على المقاصد الشرعية في مصالح العباد استخرجها المجتهدون من الإجماع ومعقول المنصوص فقد ذكر حجة الإسلام الإمام الغزالي في المستصفى ما ملخصه أن الشرع إنما جاء ليحفظ على الناس دينهم وأنفسهم وعقولهم وأنسابهم وأموالهم فکل ما يكون بعكس هذا فهو مضرة يجب ازالتها ما أمكن وإلا فتأبيدا لمقاصد الشرع يدفع في هذا السبيل الضرر الأعم بالضرر الأخص (۱/ ۶۶) ۔
وفي الدر المختار: (ولا بين حربي ومسلم) مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار (ثمة) لأن ماله ثمة مباح فيحل برضاه مطلقا بلا غدر خلافا للثاني والثلاثة. (5/ 186)۔
وفى حاشية ابن عابدين: (قوله لأن ماله ثمة مباح) قال في فتح القدير: لا يخفى أن هذا التعليل إنما يقتضي حل مباشرة العقد إذا كانت الزيادة ينالها المسلم اھ(5/ 186) -
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0