کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام و شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری شادی کو تقریباً عرصہ دو سال ہونے کو ہے، شادی کے بعد میرا خاوند مجھے غلط راستے سے استعمال کرنا چاہتا تھا، لیکن میں نے قومِ لوط کے عمل سے اُسے روکے رکھا ، وہ بار بار کوشش کے بعد بالآخر اس غلط کام میں کامیاب ہو گیا ،اور زبردستی میرے ساتھ بدفعلی کرلی،میں نے ساس کے سامنے اس غلط کام اور واقعہ کا ذکر کر دیا ،تو اُس نے کہا کہ خاموش ہو جاؤ ،اور کسی کو مت بتاؤ، میری بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے خیر ہے، پھر میں نے ساری بات اپنی والدہ کو بتادی ،تو میرے والدین نے مجھے گھر میں بٹھا لیا، اب وہ لوگ مجھے دوبارہ لیجانا چاہتے ہیں، جبکہ میں قطعاً اس کے ساتھ اس گھر میں رہنا نہیں چاہتی، کیونکہ مجھے شوہر سے نفرت اور وحشت پیدا ہو گئی ہے ، لہذا شریعت میں ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے ؟ اور کیا ہمارا نکاح ختم ہو گیا ہے یا باقی ہے ؟
اگر چہ وطی فی الدبر جیسی گھناؤنی حرکت فطرتِ سلیمہ کے خلاف اور صفتِ حیوانیت کو شامل ہونے کی بناء پرشرعاً ناجائز و حرام ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے انتہائی ناپسندیدہ ہونے کی وجہ سے اس کے مرتکب کو ملعون تک قرار دیا گیا ہے ،اور نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص سے براءت کا بھی اظہار فرمایا ہے ، تاہم سائلہ کا شوہر اگر اس قبیح حرکت کا عادی نہ ہو ،اور غلطی سے یہ حرکت سرزد ہو گئی ہو، اور آئندہ کیلئے اپنے کیے پر ندامت اور توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ اس سے بچنے کا بھی پختہ عزم رکھتا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کا اس کے ساتھ ازدواجی حیثیت سے رہنا بھی جائز اور درست ہے،ورنہ اس سے علیحدگی اور طلاق یا خلع لینے کی بھی اجازت ہے ۔
كما في التفسير المظهري: تحت قوله تعالى: فَأْتُوهُنَّ فجامعوهن يعنى أبا حكم الله الجماع بعد التطهر مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ يعنى الفرج دون الدبر (إلى قوله)والإتيان في الدبر ومن الأحداث والاخباث فحرمة إتيان النساء في أدبارهن ثبت بهذه الاية بالاشارة اھ(1/ 280)۔
وفي اعلاء السنن : عن ابى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ملعون من أتى امرأته في دبرها رواه احمد اھ وعنه ايضا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من اتى كاهنا (إلى قوله ) أو الى إمراته في دبرها فقد برئى مما انزل على محمد صلى الله عليه وسلم رواه ابوداؤد اھ (ج ۱۱ ص ۲۷۶)۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: وتباح كل وجوه الاستمتاع إلا الإتيان في الدبر فهو حرام. ومكان الوطء باتفاق المذاهب: هو القبل، لا الدبر اھ (4/ 2640)۔