1:کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ گاڑی کی انشورنس تین طرح ہوتی ہے، ایک یہ ہے کہ حادثہ کی شکل میں گاڑی والے اور متصادم دونوں کا نقصان بھرتے ہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اگر ایکسیڈنٹ ہو تو انشورنس کرنے والے کا نقصان بھرتے ہیں۔
اور تیسری صورت یہ ہے کہ روڈ پر چلتے ہوئے پولیس کے چیک کرنے پر دکھانے کیلئے ہوتا ہے، اگر یہ کا غذ نہ ہو تو پولیس چالان کرتی ہے آیا یہ ناجائز ہےیا جائز ؟
2: ایک بات اور وضاحت طلب ہے کہ مستفتی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر ایک فنڈ قائم کرے کہ دس یا پندرہ جتنی بھی گاڑیاں ہیں ، ان سب گاڑیوں کا ہر ماہ ایک مخصوص فنڈ جمع کرے ،جو ہر گاڑی کا مالک یا کمپنی اپنی گاڑی کا دے ، اور جب کبھی کسی کی گاڑی کا نقصان ہو، وہ نقصان اس جمع کردہ مشترکہ فنڈ میں سے ادا کر دیا جائے ( یہ فنڈ انشورنس سے بچنے کیلئے قائم کیا جارہا ہے) اور ایسی نقصان کی ادائیگی گاڑی کے مالک کے نام نہ لکھی جائے، بلکہ مشترکہ فنڈ سے خرچ کی جائے گی، کیونکہ فنڈ اسی لئے مقرر کیا جا رہا ہے، آیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟
۳:ایک صورت یہ ہے کہ گاڑیاں کمپنی کی ملکیت ہوں ،اور تمام شرکاء کو دی گئی ہوں حسبِ ضرورت،اور کمپنی ہر ماہ ایک فنڈ مرمت کا الگ کرے ،اور جس گاڑی کا نقصان ہو وہ اس فنڈ سے دیا جائے ۔ براہ مہربانی مذکورہ صورتوں کے جواز و عدمِ جواز کی نوعیت بتلائی جائے۔
1: سوال میں مذکور بیمہ کی پہلی دو صورتیں تو جوا اور سود پر مشتمل ہونے کی بناء پر قطعاً ناجائز اور حرام ہیں، جن سے احتراز لازم ہے،البتہ قانونی مجبوری کی بناء پر تیسری صورت اخیتار کرنے کی شرعاً بھی گنجائش ہے۔
3-2:مذکور دونوں صورتیں جائز اور انشورنس کا متبادل اور امدادِباہمی کی بہترین شکلیں ہے۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0