جناب مفتی صاحب! بیمہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ہمیں ذرا تفصیل سے فتوی عنایت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔
بیمہ کی مروّجہ تمام صورتیں سود اور جوئے کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے قطعاً ناجائز اور حرام ہیں، جن سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اس کے متبادل یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ چند افراد یا کمپنیاں مل کر ’’تعاونی بیمہ‘‘کے نام سے خاصی مقدار میں رقمیں جمع کرلیں، اور دورانِ سال پیش آنے والے حوادثات میں جن لوگوں کا نقصان ہو تو اسی رقم سے اس کی تلافی کرتے رہیں، اور سال کے بعد بقیہ رقم رسدی حصوں کے حساب سے تقسیم کریں ،یا آئندہ سال کیلئے بطورِ چند ہ دوبارہ جمع کرالیں، اس طرح کرنے سے ضروریات بھی پوری ہوں گی ،اور بیمہ کی صورت میں ہونے والے سود اور جوئے سے بھی حفاظت رہے گی۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0