محترم جناب مفتی صاحب جامعہ بنوریہ کراچی!
مجھ کو پاک قطر تکافل کے Share in Care plan پر فتویٰ درکار ہے کہ یہ مستقبل کی انوسمنٹ کیلئے بہتر ہے یا نہیں؟ کیونکہ پاک قطر کے نمائندہ اس پر یہ بات کر رہے ہیں کہ یہ بالکل اسلامی اور شرعی طریقہ سے Plan تیار کیا گیا ہے، مستقبل کی investment کے لئے اور اس ادارے کی سربراہی جناب محترم مفتی تقی عثمان صاحب ادا فرما رہے ہیں ، برائے مہربانی اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیے ،اور اس Share in Care plan پر مجھ کو فتویٰ دیجیے کہ کیا میں اس میں اپنے بچوں کیلئے انوسمنٹ کر سکتا ہوں یا نہیں؟
واضح ہو کہ پاک قطر فیملی تکافل کمپنی کا طریقہ کار ربا و قمار اور غرر سے پاک طریقہ ہے ،جو امدادِ باہمی و تعاون اور تبرع کے اصول پر مبنی ہے،اور یہ کاروباری عمل علماء کی نگرانی میں ہوتا ہے،اس لئے اس کی پالیسی لینے میں شرعاً بھی کوئی حرج نہیں، بلاشبہ لے سکتے ہیں۔ جبکہ یہ بات کہ اس ادارے کی سربراہی مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم فرما رہے ہیں، درست نہیں،البتہ اس ادارے نے اپنے معاملات اور طریقہ کار کو اصولِ شرعیہ کے موافق رکھنے کیلئے چند جید علماء کرام کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جسے ’’شریعہ بورڈ ‘‘ کہا جاتا ہے، مفتی صاحب موصوف اس شریعہ بورڈ کے چیر مین ہیں،جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ادارے میں انجام دیے جانے والے پلان خواہ وہ share 'n' care پلان ہویا share'n' care plus پلان ہو یا ان کے علاوہ کوئی دوسرا پلان ہو، اس کے اصول و ضوابط اور اس کا طریقہ کار اس شریعہ بورڈ کی نگرانی میں اور ان کے مشورہ سے طے ہوا ہے۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0