محترم مفتی صاحب! میں پچھلے دو ماہ سے "داؤد فیملی تکافل" میں تکافل کنسلٹنٹ کی جاب کر رہا ہوں ، تکافل روایتی انشورنس کا حلال متبادل ہے،داؤد فیملی تکافل کو شرعی سپر وائزری بورڈ چلا رہا ہے، جس کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن صاحب ، مفتی سید زاہد سراج صاحب اور مفتی سید صابر حسین ہیں ۔
۱۔ تکافل کی حقیقت کیا ہے ؟ ۲۔ داؤد فیملی تکافل میں کام کرنا جائز ہے ؟ ۳۔ داؤد فیملی تکافل کا پیسہ سودی کاروبار میں تو استعمال نہیں ہوتا ؟
۴۔ داؤد فیملی تکافل وکالت اور وقف ماڈل پر کام کرتی ہے، تو اس سے سود کا کوئی تعلق ہے؟ دراصل میں اس کشمکش میں ہوں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ انشورنس اور تکافل میں کوئی فرق نہیں۔ پاکستان اور دنیا میں اسلامی بینکاری یا تکافل اسلام کے قوانین کے مطابق نہیں۔ مہربانی کر کے مجھے اس کا تفصیلی جواب دیں اور رہنمائی فرمائیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
تکافل کا بنیادی تصور انشورنس کا جائز اور اسلامی متبادل پیش کرنا ہے، جس میں تعاونِ با ہمی اور عقدِ تبرع ملحوظ ہوتا ہے، مگر داؤد فیملی تکافل کے بارے میں ہمیں مکمل معلومات نہیں ہیں، اس لئے اگر سائل داؤد فیملی تکافل کا پورا طریقہ کار اور معلومات فراہم کر دے تو اس پر غور و فکر کے بعد اس کے حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0