کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک تاجر نے اپنے تین بچوں کیلئے تین عدد انشورنس پالیسیاں منتخب کیں، تاکہ اس کے مرنے کے بعد انہیں فائدہ مالی اعتبار سے پہنچے، اور ان پالیسیوں کو اختیار کیے ہوئے بارہ سال کا عرصہ گزر چکا ہو، اب اس تاجر کے دل میں کئی بار یہ خیال آیا کہ یہ طریقہ غیر شرعی اور غلط ہے، تو اب آپ حضرات شریعت کی رو سے رہنمائی فرمائیں کہ کیا انشورنس ختم کرادی جائے ؟اگر ہاں تو وہ رقم جو ۱۲ سال تک جمع کی گئی، وہ واپس لے لی جائے، اگر جمع شدہ رقم کے علاوہ جو منافع ۱۲ سال کا بنتا ہے اس کو لینا جائز ہے یا حرام ہے؟ اگر منافع میرے لئے لینا ناجائز اور حرام ہے تو کیا اس رقم کو وہ تاجر اپنے مقروض بہن بھائیوں پر خرچ کر سکتا ہے یا کسی ضرورت مند (تاجر) اور مستحق کی مالی امداد کر سکتا ہے یا نہیں ؟ صورتِ مسئلہ کی مکمل وضاحت از روئے شریعت فرمائیں کہ اگر یہ منافع والی رقم جمع شدہ رقم کے علاوہ ملتی ہے تو اس کا استعمال آیا کسی صورت جائز ہے یا حرام ؟ آپ کی عین نوازش ہوگی ۔
مروجہ انشورنس پالیسیاں بھی سودی اور غیر شرعی ، معاملات کو شامل ہونے کی بنا ءپر جائز نہیں، ان کے اختیار کرنے سے بہرحال احتراز لازم ہے۔ البتہ اگر کسی نے غلطی سے کسی پالیسی میں شمولیت اختیار کرلی ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ کو فوراً ختم کر کے اپنی دی ہوئی رقم واپس لے لے ،اور اگر کمپنی ضوابط کے تحت اُسے کچھ مزید رقم بھی لوٹائی جائے، تو اسے اپنے استعمال میں لانے کی بجائے بلانیتِ ثواب فقراء و مساکین (اگر چہ وہ سائل کے بہن بھائی وغیرہ رشتہ دار ہی ہوں) کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (آل عمران: 130)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء". رواه مسلم (2/ 134) ۔
وفی حاشية ابن عابدين: وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اھ (6/ 385)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0