میرے ایک عزیز رشتے دار کا ماشاء اللہ وسیع کاروبار ہے ،اور وہ اپنا پیسے بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں، لیکن ہر مہینے جو سود ان پیسوں سے آتا ہے، وہ الگ رکھتے ہیں، مطلب کاروبار میں سود کا پیسہ استعمال نہیں کرتے ۔ تو کیا اس سود کے جمع شدہ پیسے سے کسی غریب کی مدد کی جا سکتی ہے؟ ثواب کی نیت کے بغیر یعنی کسی کی بیٹی کی شادی میں بارات کو کھلانے یا اس کا فرنیچر دلوانے یا کسی اور کے کاموں میں جو کرائے کے گھر میں رہتا ہو، اسے اس کے ذاتی گھر کے لئے ۔ پیسہ دیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ اور کیا اس طرح پیسہ سیونگ اکاؤنٹ میں رکھنا صحیح ہے؟ اور جو پیسہ آچکا ہے اس کا کیا کیا جائے؟ جزاك الله!
بینک کے سودی کھاتے میں رقم جمع کرانا اگرچہ مذکور اغراض میں سے کسی غرض سے ہو، شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ تاہم اگر کسی نے غلطی اور مسئلۂ شرعیہ سے ناواقفیت کی بناء پر سودی کھاتے میں رقم جمع کرادی ہو تو اس سے حاصل ہونے والے سود کا حکم یہ ہے کہ اسے بغیر نیتِ ثواب کے مستحقینِ زکوٰۃ کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدیا جائے، جبکہ سوال میں مذکورہ اشخاص اگر مستحقین ہوں تو یہ مصارف بھی اسی زمرے میں آتے ہیں، نیز اس شخص پر لازم ہے کہ اپنے مذکور گناہ پر بصدقِ دل تو بہ و استغفار بھی کر لے۔
قال الله سبحانه وتعالى: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ ﴾ (البقرة: 275، 276)-
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: " هم سواء " . رواه مسلم (2/ 134)-
وفي الهداية شرح البداية: فيكون سبيله التصدق في رواية ويرده عليه في رواية لأن الخبث لحقه وهذا أصح اھ (3/ 94)-
وفي الفتاوى الهندية: وإنما طاب للمساكين على قياس اللقطة قال وهذا الربح لا يطيب لهذا المشتري وإن كان فقيرا لأنه يكتسبه بمعصية ويطيب للمساكين وهو أطيب لهم اھ (3/ 212) -