السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں قطر میں کام کرتا ہوں، میرے ساتھ اور بہت سے پاکستانی کام کرتے ہیں،جو پیسے کما کر پاکستان بھیجتے ہیں، اکثر لوگوں کو یہاں سے پیسے بھیجنے نہیں آتے یا کچھ مشکلوں کی وجہ سے وہ آسانی سے پیسے گھر نہیں بھیج سکتے، جیسا کہ ایکسچینج کمپنی کے ذریعہ سے ریال پاکستان منتقل ہوتے ہیں تو ۳۷۰ ریال سے کم پیسے پاکستان بھیجنے پر ۱۵ ریال ٹیکس کٹتا ہے، یا اکثر قطر سے بھیجی گئی رقم پھنس جاتی ہے اور ایک سے دو دن بعد پاکستانی بینک میں منتقل ہوتی ہے، تو میں قطر سے پاکستان اکٹھے ۵ یا ۶ لاکھ روپے اپنے پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں بھیج دیتا ہوں اور جیسے کسی کو قطر سے پاکستان ۵۰۰۰ روپے ۱۰۰۰۰ روپے یا ایک لاکھ یا مثلا ًکتنے بھی بھیجنے ہوتے ہیں، میں ان سے قطری ریال لے لیتا ہوں اور ان کے پاکستانی اکاؤنٹ میں اپنے پاکستانی اکاؤنٹ سے قطری ریال کے برابر پیسے منتقل کر دیتا ہوں، اس سے ان کو آسانی ہو جاتی ہےکہ ان کی رقم فوراً ٹرانسفر ہو جاتی ہےاور ۱۵ ریال ٹیکس بھی نہیں کٹتا ،لیکن ان کے پیسے بھیجنے کی مد میں میں ان سے کچھ فیس لیتا ہوں قطری ریال یا اس کے برابر ہی پاکستانی پیسے،اور اگر کسی کو قطر میں ریال چاہیئے ہو تو میں پاکستانی پیسوں کے بدلے ریال بھی دیتا ہوں اپنی کچھ فیس لے کے،تو میرا یہ سوال ہے کہ اس کام کی میں جو فیس لیتا ہوں یہ سود تو نہیں ہے؟
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق جب سائل اس کرنسی کے تبادلے کیلئے اپنے ملکی اکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفر کرکے رکھ لیتا ہے اور بوقتِ ضرورت لوگوں سے غیر ملکی کرنسی کا لین دین بھی کرتا ہے، تو بظاہر اس معاملہ کی نوعیت خرید و فروخت کی معلوم ہوتی ہے کہ جس میں سائل قطر کی کرنسی خرید کر اس کی قیمت پاکستانی کرنسی میں فروخت کنندہ شخص کے کسی رشتہ دار وغیرہ کے حوالہ کردیتے ہیں، تو اس طرح کی خرید و فروخت شرعاً بھی جائز اور درست ہے، تاہم مجلسِ عقد میں کسی ایک طرف کرنسی پر قبضہ کرنا ضروری ہے، اور معاملہ کرتے وقت مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت چارج کرنے کے بعد سروس چارج کے نام سے اضافی رقم لینا درست نہ ہوگا، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی فقہ البیوع: فتبین أن عملات الدول المختلفۃ أجناس مختلفۃ، ولذلک تختلف أسماؤھا، وموازینھا، ووحداتھا المتشعبۃ منھا، ولما کانت عملات الدول أجناسا مختلفۃ، جاز بیعھا بالتفاضل بالإجماع، (إلی قولہ) وأما عند أبی حنیفۃ وأصحابہ، فلأن تحریم بیع الفلس بالفلسین مبنی عندھم علی کون الفلوس أمثالا متساویۃ قطعاً، فیبقی عند التفاضل فضل خال عن العوض، ولکن عملات البلاد المختلفۃ لما کانت أجناسا مختلفۃً، لم تکن أمثالاً متساویۃً، فلا یتصور الفضل الخالی عن العوض (إلی قولہ) أما تبادل العملات المختلفۃ الجنس، مثل الربیۃ الباکستانیۃ بالریال السعودی، فقیاس قول الإمام محمد رحمہ اللہ تعالی أن تجوز فیہ النسیئۃ أیضا، لأن الفلوس (وھی الأثمان الاصطلاحیۃ) لو بیعت بخلاف جنسھا من الأثمان، مثل الدراھم، فیجوز فیھا التفاضل والنسیئۃ جمیعاً، بشرط أن یقبض أحد البدلین فی المجلس، لئلا یؤدی إلی الافتراق عن دین بدین إلخ( المبحث السابع تقسیم البیع من حیث نوعیۃ البدلین،الباب الثالث فی الصرف، ج: 2، ص: 736۔739، ط: مکتبہ معارف القرآن )۔