اسلام علیکم۔ ہمارے نزدیکی مسجد کے امام محکمہ تعلیم میں ایک سرکاری نوکر اور دینیات کا ماسٹر ہے۔ ہمارے علاقے میں حکومت کی طرف سے پراپر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی سسٹم نہیں ہے اور اکثر لوگ جس کو خوف خدا نہیں ہوتا اپنی ڈیوٹی نہیں کرتے اور حرام کی تنحواہ گھر بیٹھے وصول کرتے ہیں اور معاون آفیسر کو ماہانہ بطور رشوت ۱۵ ہزار(کم یا بیش) کی رقم دیتے ہے جو کہ آگے اُس کو رپورٹ نہیں کرتا۔ ہمارے امام بھی اپنی ڈیوٹی پر کھبی بھی نہیں جاتے اور گھر بیٹھے تنحواہ وصول کرتے ہے۔ تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز پڑنا جائز ہے؟
سائل کا بیان حقیقت پر مبنی ہواوراس میں کسی قسم کی غلط بیانی اورتہمت نہ لگائی ہواور اس کےپاس اپنے اس دعوی پریقینی ثبوت بھی موجودہوں ،توامام موصوف پرلازم ہےکہ وہ خودکوموضع تہمت میں ڈالنے کی بجائے ملازمت پر جانے کی پابندی کرے، ملازمت پر نہ جانا اور اس کی تنخواہ وصول کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے، ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے، س لئے حتی الامکان نماز کسی صحیح العقیدہ متبع ِسنت اور کبائر سے بچنے والے امام کی اقتداء میں ادا کرنی چاہیے ، لہذاجب تک مذکورصفات کاحامل امام میسر نہ ہوتوچونکہ مسجدمیں با جماعت نمازاداکرنےکی احادیث طیبہ میں بہت تاکید آئی ہے،لہذا اس سے محروم نہیں ہونا چاہیے،اس لیےجب تک متدین امام میسر نہ ہو اکیلے نماز پڑھنے کے بجائے مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا بہتر ہے ۔
کمافی الجامع الصحیح لمسلم: عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أيها الناس إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال: "يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم" ! وقال: "يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم". ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك.( 2/ 703)
"ويكره إمامة عبد وأعرابي وفاسق وأعمى.(قوله وفاسق) من الفسق: وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر، والزاني وآكل الربا ونحو ذلك(559/1)