میں ایک ڈیزائنر کے طور پر فری لانسنگ کرتا ہوں، اور کارٹون ڈیجیٹل تصویریں اور بچوں کو کارٹون کے ساتھ ڈرائنگ کی کتابیں بیچتا ہوں۔ کارٹون کی تصاویر بیچ کر حاصل ہونے والی رقم حلال ہے یا نہیں؟
بچوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کے لیے ایسےڈیجیٹل کارٹون،تصویری ،ڈرائنگ بنانا جوواضح طورپرانسان یاکسی دوسرےجاندارکی شکل وصورت ، موسیقی، فحاشی اور دوسرے شرعی منکرات سے پاک ہوں، اور ان کے ذریعےدکھایاجانے والا مواد (content)بھی غیر شرعی نہ ہو،توان کے بنانے کی شرعاگنجائش ہے تاہم جاندار کی ڈیجیٹل تصویر کے حرام اور حلال ہونے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے، اس لیےبلاضرورت لہوولعب پرمشتمل محض تفریح طبع کے لیےجاندارکی ڈیجیٹل تصاویر بنانےوالوں کے ساتھ کام کرنےسے اجتناب کیا جائے۔البتہ جاندارکی ڈرائنگ بنانایااسکیچ تیارکرناجائزنہیں ،لہذاجاندارکی تصاویرپرمشتمل ڈرائنگ بک بنانے اوراس کے کاروبارکرنے سے احترازلازم ہے۔
کمافی التنزیل: إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلۡفَٰحِشَةُ فِي ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَO
عن مجاهد، قال: كنت مع ابن عمر، " فسمع صوت طبل، فأدخل إصبعيه في أذنيه، ثم تنحى، حتى فعل ذلك ثلاث مرات، ثم قال: هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم. (ابن ماجه)
وفی تکملة فتح الملھم: اما تلفزيون والفديو فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر الى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعة والمجون والكشف عن النساء المتبرجات او العاريات وما ذلك من اسباب الفسوق، ولكن هل يأتي فيهما حكم التصوير بحيث اذا كان التلفزيون او الفديو خاليا من هذہ المنكرات بأسرھا، هل يحرم بالنظر الى كونه تصويرا؟ فان لهذا العبد الضعيف عفا الله عنه فيه وقفة. (164/4، ط: دار احیاء التراث العربی)