السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! آج کل میریٹل ریپ کی اصطلاح کا استعمال عام ہے ۔جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اپنی منکوحہ کی اجازت کے بغیر یا مرضی کے بغیر ہمبستری کرنا بھی ریپ (زنا بالجبر)ہی کی ایک صورت ہے۔اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ نکاح کے بعد شوہر کو اپنی بیوی سے ہمبستری کا پورا حق حاصل ہے، بیوی کے لیے شوہر کے مطالبہ پربلاعذرِ شرعی (جیسے حیض، نفاس یا بیماری) انکار کرنا شرعاًجائز نہیں، بلکہ یہ شوہر کی نافرمانی میں شمار ہوگا، لہٰذا بیوی کی مرضی کے بغیر اس کے ساتھ ہمبستری کو’’زنا بالجبر‘‘ یا ’’ریپ‘‘نہیں کہا جاسکتا، البتہ شوہر پربھی لازم ہے کہ وہ بیوی کی صحت، طبیعت اور مناسب وقت کا لحاظ رکھے، اور ازدواجی تعلق اس طرح قائم نہ کرے کہ جس سے دونوں کے درمیان نفرت اور دوری پیدا ہو، چنانچہ شوہراگر اس معاملے میں بے جاسختی کرے گا تو عند اللہ گناہ گار ہوگا۔
لما فی التنزیل العزیز: ﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾(النساء: 19)
وفی صحیح البخاری: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح(رقم: 3237)
وفی الدرالمختار: ولو تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها، والرأي في تعيين المقدار للقاضي بما يظن طاقتها نهر بحثا(3 /203)