السلام علیکم ،مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ میں ٹیلی گرام ایپلیکیشن پر کچھ لنکس جیسے (Xhmastar Coin، Blum Coin، Goat Coin وغیرہ) ایسے بہت سے لنکس ہیں جن پر ہم تھوڑی سی محنت کرتے ہیں اور کوئنز جمع کرتے ہیں، اور ان کی طرف سے مقررہ وقت پر انعام ملتے ہیں ڈالر میں، جسے ہم بائنانس ایپ کے ذریعے اپنے موبائل اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں، جسے کرپٹو کرنسی کہتے ہیں، کیا اس طرح محنت کرکے جو پیسے ہمیں ملتے ہیں، کیا یہ حلال ہیں یا نہیں ؟ شکریہ، آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔
واضح ہوکہ جس چیز کےاندر شرعی اصولوں اور ضوابط کی روشنی میں زرِعرفی بننے کی صلاحیت موجود ہو اس کو بطورِ زرمعاشرے میں رائج کیا جاسکتاہے تاہم ،کسی چیزکو” زرِعرفی“ قراردینے کے لئے اس میں زرکی خصوصیات کاپایاجاناضروری ہے۔اس لئے ”کرپٹوکرنسی“ کے جواز اورعدم جواز کافیصلہ کرنے سے پہلے اس کی حیثیت طے کرناضروری ہے کہ اسے ”زرِعرفی“ قراردیاجاسکتاہے یانہیں ؟
زر کی تعریف ماہرین اقتصادیات نے یوں بیان کی ہے:
”وہ چیز جس کی اپنی کوئی مستقل حیثیت نہ ہو بلکہ لوگوں کے تعامل سے اس کی قیمت قائم ہوئی ہواور اسےآلۂ تبادلہ کے طور پر استعمال کیاجارہاہو،اوروہ قیمتوں کا پیمانہ بن سکے اور اس کے ذریعے قدر کو محفوظ رکھا جائے“
مذکورتعریف سے زرکی تین خصوصیات واضح ہوتی ہیں :
(۱) آلۂ تبادلہ کے طور پر استعمال ہو سکتی ہو۔
(۲)قیمتوں کا پیمانہ ہو۔
(۳) قدر محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہو۔
کرپٹو کرنسی میں موجودہ صورت ِحال میں یہ اوصاف واضح طور پر ثابت نہیں ہیں ، اس کے علاوہ ”کرپٹوکرنسی “ میں قمار، سٹے بازی اور دھوکہ دہی جیسےغیرِِشرعی مفاسد کاعنصرغالب ہے ۔لہٰذا فی الحال “کرپٹو کرنسی “کی خرید و فروخت اور اس میں سرمایہ کاری مشکوک اور مشتبہ ہے، اس لئے جمہورمعاصرفقہاء کرام اس کولین دین کے تبادلے میں استعمال کرنےکی اجازت نہیں دیتے، لہذااحتیاط کاتقاضا یہی ہےکہ اس کےبطورآلۂ تبادلہ استعمال سے گریزکیاجائے۔
البتہ اگرکوئی ریاست اسےزرِعرفی قراردیکررائج کردے اوروہ لوگوں کے درمیان قانون کے دائرے میں رہتے ہوئےشفاف طریقے سے لین دین کے تبادلے میں استعمال ہونےلگے، اور اس کی قیمت کا کوئی مستحکم تعین بھی ہو ، تو اس صورت میں اس کے جواز کی گنجائش نکل سکتی ہے۔
لہذا جن ممالک میں کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت حاصل ہوچکی ہو اوروہاں حکومتی نگرانی میں اس کااستعمال چیزوں کے تبادلے میں ہورہاہواوراس ملک کے قانونی نظام کاگہرامطالعہ وفقہی بصیرت رکھنے والے مستندومعتبر علماء کرام ومفتیانِ عظام اس کےاستعمال کی اجازت دیں توان کے فتوی پرعمل کرنے کی گنجائش ہوسکتی ہے،تاہم بہتریہی ہے کہ جب تک اس نظام کااشتباہ اورمشکوکیت پوری طرح ختم نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس سے بہرصورت اجتناب ہی برتنا چاہئیے ۔
اورچونکہ ”کرپٹو کرنسی“ کا خارج میں کوئی حسی وجود نہیں ہے اور نہ ہی اس کا قبضہ اور تسلیم وتسلّم ممکن ہے ، اور حکومت نےاس کو مبادلہ اور خرید و فروخت کے لئے استعمال کرنا ممنوع قرار دیا ہے ، نیز کرپٹو کرنسی ،بٹ کوائن وغیرہ میں سرمایہ کاری کے نام سے غرراور دھوکہ دہی بھی عام ہے ، لہذا سائل کیلئےمذکور ٹیلی گرام پلیٹ فارم پر کرپٹوکرنسی، بٹ کوئن وغیرہ کےذریعہ سرمایہ کاری یا اپلیکیشن پر لنکس دے کر لوگوں کو اس غیرشرعی نظام ِ مالیت میں ملوث کرنا اور اس میں خود ملازمت اختیار کرنا اوراس کام پرمقررہ وقت پر انعام لینا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے ۔
کمافی المسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: يشترط في الثمن المعين أن يكون مقدور التسليم، وهذا متفق عليه بين الفقهاء؛ لأن ما لا يقدر على تسليمه شبيه بالمعدوم، والمعدوم لا يصح أن يكون ثمنا. فلا يصح أن يكون الطير في الهواء ثمنا، وكذا الجمل الشارد الذي لا يقدر على تسليمه، لحديث أبي هريرةؓ قال: "نھى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر" قال الماوردي: والغرر ما تردد بين متضادين أغلبهما أخوفهما، وقيل: ما انطوت عنا عاقبته والمبيع ومثله الثمن المعين إذا لم يقدر على تسليمه داخل في الغرر المنھي عنه، (المادۃ: الثمن، ج 15، ص 33، ط: دار السلاسل، الکویت)-
وفی الشامیۃ: وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع والثمر قبل ظهوره، الخ (کتاب البیوع، ج 4، ص 505، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی البدائع: (ومنها) أن يكون الذي يؤمر عليهم عالما بالحلال والحرام، عدلا عارفا بوجوه السياسات، بصيرا بتدابير الحروب وأسبابها؛ لأنه لو لم يكن بهذه الصفة لا يحصل ما ينصب له الأمير، (إلی قولہ) وإذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يأمرهم به، وينهاهم عنه؛ لقول الله تبارك وتعالى: يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم،(سورۃالنساء: 59) وقال عليه الصلاة والسلام:"اسمعوا وأطيعوا، ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع ما حكم فيكم بكتاب الله تعالى" ولأنه نائب الإمام، وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته؛ لأنها طاعة الإمام، إلا أن يأمرهم بمعصية فلا تجوز طاعتهم إياه فيها؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق" ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا، فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب، كاتباع القضاة في مواضع الاجتهاد والله تعالى عز شأنه أعلم،اھ (کتاب السیر، فصل في بيان ما يندب إليه الإمام عند بعث الجيش أو السرية إلى الجهاد، ج 7، ص 99-100، ط: ایچ ایم سعید)-