میری 17 گریڈ لیکچرر کی گورنمنٹ جاب ہے فی میل کالج میں ، میرے 2 بچے ہیں ایک سوا دو سال کا بیٹا اور ایک 3 ماہ کی بیٹی، میرے شوہر سافٹ ویئر انجینئر ہیں، ان کی الحمداللہ اچھی جاب ہے ، ہمارا اچھا گزارا ہو جاتا ہے ، پھر آجکل کچھ قرض اور قسطوں کی وجہ سے حالت اتنی اچھی نہیں ، پھر بھی اللہ کا شکر ہے گزارا ہو جاتا ہے ، کالج میں میں نے بات کی ہے کہ میں اپنے بچے ساتھ رکھوں گی ، ایک ہیلپر بھی رکھوں گی جو میری کلاسز کے دوران بچوں کا خیال رکھے گی ، اور کالج والے مجھے ایک کمرہ کی فیسیلیٹی دینے کے لئے تیار ہیں ، جہاں میں اپنے بچے رکھ سکوں ، میرے شوہر اس جاب کے لئے کنفیوزڈ ہیں ، کہ کرنے دینی چاہیئے یا نہیں ؟ فی میلز کی جاب کرنا انہیں پسند نہیں اور وہ یہ بھی جانتیں ہیں کہ یہ ایک موقع ہے، میں الحمداللہ پردہ کر تی ہوں ، اور کالج میں بھی باپردہ رہوں گی ، اور میں ان کی ٹریولنگ کی اور بچوں کی وجہ سے کنفیوز ڈ ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟
واضح ہو کہ عورت کا نان نفقہ اللہ تعالی نے مرد کے ذمہ رکھا ہے ، اس لئے بلا ضرورت عورت کا گھر سے باہر جا کر نوکری کرنا بھی بظاہر مناسب نہیں ، تاہم تعلیمی اداروں میں چونکہ نیک اور باپردہ خواتین کی بھی ضرورت ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے لئے بہتر تو اگرچہ یہی ہے کہ وہ تدریس کے لئے باہر نہ نکلے، البتہ اگر سائلہ اپنے تعلیمی افادے و استفادے یا بچیوں کی اچھی تربیت وغیرہ کی نیت سے تدریس کے قابل قدر پیشے کے ساتھ منسلک رہے ، تو درجِ ذیل شرائط کی پاسداری کے ساتھ شوہر کی اجازت سے وہ اسے اختیار کر سکتی ہے-
(۱) دورانِ ڈیوٹی کسی قسم کی زیب و زینت، خوشبو وغیرہ کا استعمال نہ کرے۔
(۲) تمام بدن بالخصوص چہرہ کے چھپانے کا اہتمام کرے۔
(۳) برقعہ وغیرہ سادہ اور ڈھیلا استعمال کرے۔
(۴) غیر محارم کےساتھ خلوت، فضول گوئی، ہنسی مذاق اور بے تکلفی سے بھی اجتناب کرے۔
(۵) اگر غیر محارم سے بات چیت کرنے کی ضرورت پیش آئے تو لہجے میں لچک نہ رکھے۔
(۶) نگاہوں کی مکمل حفاظت کرے۔
(۷) ملازمت کی وجہ سے شوہر کے حقوق ضائع نہ ہوں، خاص طور پر بیوی کا رات گزارنا شوہر کے پاس یہ شوہر کا حق ہے۔
(۸) نمازوں کے اوقات کا اہتمام کرے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: ﴿وقل للمؤمنات یغضضن من أبصارہن ویحفظن فروجہن ولا یبدین زینتہن إلا ما ظہر منہا ولیضربن بخمرہن علی جیوبہن﴾ (سورۃ النور، الآیۃ : ۳۱)۔
وقال تعالٰی أيضا ﴿یا أیہا النبی قل لأأزواجک وبناتک ونساء المؤمنین یدنین علیہن من جلابیبہن﴾ (سورۃ الاحزاب، الآیۃ : ۵۹)
وفی سنن الترمذی: عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال : المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان (ج 3، ص 468، رقم : 1173، ط : مطبعة مصطفى، مصر)-
و في الفتاوى الهندية : تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة كذا في الجوهرة النيرة (الفصل الأول في نفقة الزوجة، ج 1، ص 544، ط : دار الفكر، بيروت)-
وفي رد المحتار : تحت (قوله ويشترط كونه مسلما الخ) ولأن النساء أمرن بالقرار في البيوت فكان مبنى حالهن على الستر. وإليه أشار النبي صلى الله عليه وسلم حيث قال «كيف يفلح قوم تملكهم امرأة (ج 1، ص 548، ط : سعيد)-
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ : إذا عملت الزوجة نهاراً أو ليلاً خارج المنزل كالطبيبة والمعلمة والمحامية والممرضة والصانعة، فالمقرر في القانونين المصري والسوري أنه إذا رضي الزوج بخروجها ولم يمنعها من العمل، وجبت لها النفقة؛ لأن احتباس الزوجة حق للزوج، فله أن يتنازل عنه (إلى قوله) وللزوجة أن تعمل في البيت عملاً لا يضعفها ولا ينقص جمالها، وللزوج أن يمنعها مما يضرها الخ (المسألة الثانية ـ الزوجة العاملة أو الموظفة، ج 10، ص 7378-7380، ط : دار الفكر، دمشق)-